مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بِطَلْقَتَيْنِ، ثُمَّ عَتَقَا، أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: عَمَّنْ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قال عبد الله: قال أبي: قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ، مَنْ أَبُو حَسَنٍ هَذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً!!.
ابوالحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کر سکتا ہے، اس نے پوچھا کہ یہ بات آپ کس کی طرف سے نقل کر رہے ہیں؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فتوی دیا ہے۔ عبداللہ اپنے والد امام احمد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے معمر سے پوچھا: اے ابوعروہ! یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے تو بہت بڑی چٹان اٹھائی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3088]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وقد سلف الكلام عليه برقم: 2031
حدیث نمبر: 3089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ مَعَهُ عَشْرَةُ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ، يَصُومُ وَيَصُومُونَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ، وَهُوَ مَا بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ، أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَلَمْ يَصُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو یہ رمضان کا مہینہ تھا، ہمراہی میں دس ہزار مسلمان تھے اور مدینہ منورہ آئے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساڑھے آٹھ سال گزر چکے تھے، روانگی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3089]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1944، م : 1113
حدیث نمبر: 3090
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَعُمَرُ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ يُقَبِّلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَوْتَتَيْنِ، لَقَدْ مِتَّ الْمَوْتَةَ الَّتِي لَا تَمُوتُ بَعْدَهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے بول رہے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے اس کمرے میں پہنچے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا، یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مقدسہ میں، وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی، اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا، آپ پر ایسی موت طاری ہوئی ہے جس کے بعد آپ پر کبھی موت نہ آئے گی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3090]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3091
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3091]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ:" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ، قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ظہر اور عصر میں قراءت نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، اور تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے، اور ”آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3092]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ، أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام، فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاتَلَهُمْ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ" قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ، وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں داخل ہو کر اس کے کونوں میں اللہ کی کبریائی کا ترانہ بلند کیا اور باہر نکل آئے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3093]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4288
حدیث نمبر: 3094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3094]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1677، م: 1293
حدیث نمبر: 3095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ نَبِيذَ الْبُسْرِ وَحْدَهُ، وَقَالَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الْقَيْسِ عَنِ الْمُزَّاءِ، فَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْبُسْرُ وَحْدَهُ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالقیس کے وفد کو «مُزَّاءِ» سے منع کیا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3095]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ". قَالَ عَفَّانُ: ب الم تَنْزِيلُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3096]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السَّمِيطِ ، قَالَ قَتَادَةُ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3097]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي