🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ، خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3246]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَجْلَحَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاجِعُهُ الْكَلَامَ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ. فَقَالَ:" جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا! مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تن تنہا چاہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3247]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح بن عبدالله مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَإِسْمَاعِيلُ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: يَحْيَى لَا يَدْرِي عَوْفٌ: عَبْدُ اللَّهِ، أَوْ الْفَضْلُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ:" هَاتِ الْقُطْ لِي" فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ، فَوَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ، فَقَالَ:" بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ" مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ بِيَدِهِ فَأَشَارَ يَحْيَى أَنَّهُ رَفَعَهَا وَقَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح اپنی سواری پر سے مجھ سے فرمایا: ”ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ“، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: ”ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3248]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ إِخْوَانِنَا قَبْلَ ذَلِكَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة: 143] » ”اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3249]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ أَوَّلُ مَا اتَّخَذَتْ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ، اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ، فَنَزَلُوا، وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَنَزَلُوا مَعَهُمْ". وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ:" فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْوَادِيَ، رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا، ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ، حَتَّى جَاوَزَتْ الْوَادِيَ، ثُمَّ أَتَتْ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا، وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عورتوں میں کمر بند باندھنے کا رواج سب سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کی طرف سے منتقل ہوا ہے، وہ اپنے اثرات مٹانے کے لئے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کمر بند باندھتی تھیں، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا کہ ام اسماعیل علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، اگر وہ زمزم کو یوں ہی چھوڑ دیتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام اسماعیل کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، وہ انسانوں سے محبت کرتی تھیں، چنانچہ قافلے والوں نے وہیں پڑاؤ ڈال لیا اور اپنے دیگر اہل خانہ کو بھی بلا لیا اور وہ ان کے ساتھ رہنے لگے . . . . .۔“ پھر راوی نے یہ بھی کہا کہ ام اسماعیل علیہ السلام صفا سے اتریں اور نشیبی علاقے میں پہنچیں تو اپنی قمیص کا دامن اونچا کیا اور تکلیف میں پڑے ہوئے آدمی کی طرح تیزی سے دوڑنے لگیں، اور اس نشیبی حصے کو عبور کر کے مروہ پر پہنچیں اور وہاں کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کوئی انسان نظر آتا ہے یا نہیں؟ لیکن انہیں کوئی نظر نہ آیا، انہوں نے سات مرتبہ اسی طرح چکر لگائے، اور یہی سعی کی ابتداء ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3250]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3362، 3363، 3365
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3251
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ سورة الأنفال آية 30، قَالَ: تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصْبَحَ، فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ. يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ اقْتُلُوهُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ أَخْرِجُوهُ. فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا، يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا، رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا؟ قَالَ:" لَا أَدْرِي". فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ، فَمَرُّوا بِالْغَارِ، فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ، فَقَالُوا: لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا، لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ، فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت قرآنی: « ﴿وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [الأنفال: 30] » ”اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تمہارے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے،“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت قریش نے مکہ مکرمہ میں باہم مشورہ کیا، بعض نے کہا کہ صبح ہوتے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بیڑیوں میں جکڑ دو، بعض نے کہا کہ قتل کردو، اور بعض نے انہیں نکال دینے کا مشورہ دیا، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی اس مشاورت کی اطلاع دے دی۔ چنانچہ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکل کر نماز میں چلے گئے، مشرکین ساری رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہوئے پہرہ داری کرتے رہے اور صبح ہوتے ہی انہوں نے ہلہ بول دیا، لیکن دیکھا تو وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اس طرح اللہ نے ان کے مکر کو ان پر لوٹا دیا، وہ کہنے لگے کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نہیں پتہ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم تلاش کرتے ہوئے نکلے، جب وہ اس پہاڑ پر پہنچے تو انہیں التباس ہو گیا، وہ پہاڑ پر بھی چڑھے اور اسی غار کے پاس سے بھی گزرے (جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزین تھے)، لیکن انہیں غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا دکھائی دیا، جسے دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اگر وہ یہاں ہوتے تو اس غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3251]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى نَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ، أَصَابَ ذَنْبًا، ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، ان سے ایک معمولی لغزش ہوئی تھی، پھر ان کے پروردگار نے انہیں چن لیا تھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3252]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3413
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ" فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا: ”سوائے اذخر کے کہ وہ حلال ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3253]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1349 ، م: 1353
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ، قَالَ: كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ، وَيَقُولُ:" مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ، أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ، فَلَيْسَ مِنَّا". قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْجَانَّ مَسِيخُ الْجِنِّ، كَمَا مُسِخَتْ الْقِرَدَةُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص خوف کی وجہ سے یا ان کی کسی تاثیر کے اندیشے سے انہیں چھوڑ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور فرماتے تھے کہ سانپ جنات کی بدلی ہوئی شکل ہوتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3254]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3255
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سانپ جنات کی مسخ شدہ شکل ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3255]

الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں