مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفٍ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ: وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھائی اس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3236]
الحكم على الحديث:
ضعيف، قد تقدم الكلام فيه برقم: 1975
حدیث نمبر: 3237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَزَوَّجْتَ بِنْتَ حَمْزَةَ؟، قَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3237]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
حدیث نمبر: 3238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبَاهَا شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّحْلِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے، لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3238]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1334
حدیث نمبر: 3239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " دَعَا أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ: إِنَّكُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِكُمْ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِحِلَابٍ فِي هَذَا الْيَوْمِ، فَشَرِبَ". وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً: أَهْلُ بَيْتٍ يُقْتَدَى بِكُمْ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم لوگ ائمہ ہو، لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ انہوں نے اس دن دودھ کا برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3239]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هَذِهِ السَّوْدَاءُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي. قَالَ:" إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ، وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ، دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ أَنْ يُعَافِيَكِ"، قَالَتْ: لَا، بَلْ أَصْبِرُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ أَوْ لَا يَنْكَشِفَ عَنِّي. قَالَ: فَدَعَا لَهَا.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: یہ حبشن ہے، ایک مرتبہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا جسم برہنہ ہو جاتا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو صبر کر لو اور اس کے عوض جنت لے لو، اور چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دیتا ہوں کہ وہ تمہیں اس بیماری سے عافیت دے دے، اس نے کہا: نہیں، میں صبر کر لوں گی، بس آپ اتنی دعا کر دیجئے کہ میرا جسم برہنہ نہ ہوا کرے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کر دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3240]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5652، م: 2576
حدیث نمبر: 3241
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ يَحْيَى كَانَ شُعْبَةُ يَرْفَعُهُ" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ کتا اور ایام والی عورت کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3241]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النَّحْلَةِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالصُّرَدِ، وَالْهُدْهُدِ". قَالَ يَحْيَى : وَرَأَيْتُ فِي كِتَابِ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے: ”چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور لٹورا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3242]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ، فَتَوَضَّأَ، فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَمِينِي، فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور مشکیزہ کھول کر اس سے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دائیں ہاتھ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا اور میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3243]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 3244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، وَسَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِرَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3244]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِطَعَامٍ، فَأَكَلَهُ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3245]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 374