🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَتَمَلَّى، ثُمَّ صَلَّى، وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شانے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3295]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 354، 359
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْتَثِرُوا ثِنْتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا".
ابوغطفان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو انہیں وضو کرتے ہوئے پایا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3296]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنَ الْمَغْنَمِ، دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت کے علاوہ میں سے کچھ دے دیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3297]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة راويه عن ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ وَجَعِهِ، سَبْعًا، إِلَّا شَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ ”میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے“، تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3298]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَهَلْ كُنَّ النِّسَاءُ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ: وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ، كَتَبَ إِلَيْهِ: كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَتَقُولُ: إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَى قَدْ قَتَلَ الْغُلَامَ! فَلَوْ كُنْتَ تَعْلَمُ مِنَ الْوِلْدَانِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ الْعَالِمُ، قَتَلْتَ، وَلَكِنَّكَ لَا تَعْلَمُ، فَاجْتَنِبْهُمْ،" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ النِّسَاءِ، هَلْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَقَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَقَدْ كَانَ يَرْضَخُ لَهُنَّ".
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا، نیز یہ کہ کیا خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتی تھیں؟ اور کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا حصہ مقرر فرماتے تھے؟ اس خط کا جواب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے لکھوایا تھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا، اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا، تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیا ہے، البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3299]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1812
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7".
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: 7] » ”پیغمبر تمہیں جو دے دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3300]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1995
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا، وَكَانَتْ لَيْلَتَهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْفَتَلَ، فَقَالَ:" أَنَامَ الْغُلَامُ؟" وَأَنَا أَسْمَعُهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ قَالَ فِي مُصَلَّاهُ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر ان کے پاس آ گئے، کیونکہ اس دن رات کی باری انہی کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر لیٹ گئے، کچھ دیر بعد فرمانے لگے: ”کیا بچہ سو گیا؟“ حالانکہ میں سن رہا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مصلی پر یہ کہتے ہوئے سنا: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میرے کانوں، آنکھوں اور زبان میں نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3301]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَرَادَتْ الْحَجَّ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي، فَإِنَّ ذَلِكِ لَكِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور) عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، (آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم احرام باندھتے وقت شرط لگا لو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3302]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَّةً الْحَجُّ، أَوْ فِي كُلِّ عَامٍ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ مَرَّةً، فَمَنْ زَادَ، فَتَطَوُّعٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3303]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أَهْلِهِ إِلَى مِنًى لَيْلَةَ النَّحْرِ، فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ دس ذی الحجہ کی رات ہی کو منیٰ کی طرف روانہ کر دیا تھا اور ہم نے فجر کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3304]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شعبة بن دينار الهاشمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں