مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ، فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟، قَالَ: فَصَلَّى مَا بَقِيَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا اور حجر اسود کا استلام کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے پیچھے سے سبحان اللہ کہا تو وہ کہنے لگے کہ تمہیں کیا ہوا؟ (پھر خود ہی سمجھ گئے اور واپس آ کر) بقیہ نماز پڑھا دی اور آخر میں سہو کے دو سجدے کر لئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روگردانی نہیں کی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3285]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مطر الوراق كثير الخطأ
حدیث نمبر: 3286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3286]
الحكم على الحديث:
صحيح، لكن الإسناد الأول فيه الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، والثاني مرسل
حدیث نمبر: 3287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَأَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا مِنْ لَحْمٍ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يُحْدِثْ وُضُوءًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے یہاں شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3287]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا سند ضعيف
حدیث نمبر: 3288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3288]
الحكم على الحديث:
صحيح، الحجاج مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 3289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ، وَيَقُولُ:" إِنَّمَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے: وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے منزل کی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3289]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة الحجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 3290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ زَوْجِهَا بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ، وَلَمْ يُحْدِثْ صَدَاقًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) دو سال بعد پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو مہر مقرر نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3290]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 3291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي النَّاسَ آخِرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ، أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ؟ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى".
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماہ رمضان کے آخر میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے اہل بصرہ! اپنے روزے کی زکوٰۃ ادا کرو، لوگ یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر فرمایا کہ یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھاؤ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور مقرر فرمائی ہے جو آزاد اور غلام، مذکر اور مؤنث سب پر ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3291]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 3292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى نَاسٌ أَمْوَالًا كَثِيرَةً وَدِمَاءً".
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3292]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2514، م: 1711
حدیث نمبر: 3293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ِعمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ وَمُعَاذٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ. فَسَكَتَ عَنْهُ، ثُمَّ، قَالَ: الصَّلَاةَ. فَسَكَتَ عَنْهُ، ثُمَّ، قَالَ: الصَّلَاةَ. فَقَالَ: أَنْتَ تُعْلِمُنَا بِالصَّلَاةِ؟! قَدْ" كُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ". قَالَ مُعَاذٌ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (ایک دن عصر کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے) اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کردیا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے: کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو نمازوں کے درمیان جمع صوری کیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3293]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 705
حدیث نمبر: 3294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِالْأَبْطَحِ، فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادئ بطحا میں، میں نے ایک شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں بائیس مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3294]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح