🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ فِي يَوْمِ الْعِيدِ أَنْ يُخْرِجَ أَهْلَهُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ، ثُمَّ أَتَى الْقِتَانَ فَخَطَبَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَرْأَةَ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا، تُعْطِيهِ بِلَالًا يَتَصَدَّقُ بِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اپنے اہل خانہ کو بھی عید گاہ لے کر جائیں، ایک مرتبہ ہم لوگ روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس جمع کرانے لگیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3315]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، إلا أنه قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ يَوْمٍ تَجْتَمِعُونَ فِيهِ، سَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ:" وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ بہترین دن جس میں تم سینگی لگوا سکتے ہو، سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے“، اور فرمایا کہ ”شب معراج میرا ملائکہ کے جس گروہ پر بھی گزر ہوا، اس نے مجھ سے یہی کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سینگی لگوانے کو اپنے اوپر لازم کر لیجئے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3316]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عباد ابن منصور ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ آمِنُونَ لَا نَخَافُ شَيْئًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کیا، اس وقت ہم حالت امن میں تھے، کسی چیز کا قطعا کوئی خوف نہ تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3317]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ، يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (روزانہ) سوتے وقت (اثمد نامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3318]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد ابن منصور الناجي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، ثُمَّ دَخَلَ بِهَا بَعْدَمَا رَجَعَ بِسَرِفَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مقام سرف میں نکاح فرمایا اور حج سے واپسی کے بعد مقام سرف ہی میں ان سے خلوت فرمائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3319]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمِدِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَكَانَ يَكْتَحِلُ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (روزانہ) سوتے وقت (اثمد نامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3320]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور الناجي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3321
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110، قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ « ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران: 110] » ”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے . . . . .“ والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3321]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا َوكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ النَّبِيِّينَ قَبْلَكَ". صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ، وَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَحَلَّ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے قریب دو مرتبہ میری امامت کی اور فرمایا: ”اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ آپ کا اور آپ سے پہلے نبیوں کا وقت رہا ہے“، چنانچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہو گیا اور ایک تسمہ کے برابر سایہ ہو گیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، اور اس کے لئے کھانا پینا حلال ہو جاتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3322]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي الْمَدِينَةِ، مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ". قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3323]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، قَالَ:" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ، قَالَ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ خَلْفَهُ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے وضو کر کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3324]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں