🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِمَّا لَا، فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ، وَيَقُولُ: مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ.
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا: جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا؟ بعد میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3256]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1328
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ؟ فَقَالَ: نَهَى اللهُ عز وجل عنه ورَسُولُه. فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ. فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ.
ابوحاضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مٹکے کے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ گیا اور ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ذکر کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا: ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3257]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ، حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ فَأَفْطَرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ماہ رمضان میں فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3258]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1944، م: 1113
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْر ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا، فَلَا تُزَعْزِعُوا بها، وَلَا تُزَلْزِلُوا، وَارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ". قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، واللہ اعلم)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3259]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ لِلْخَلَاءِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ، فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3260]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3261
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، تُوُفِّيَتْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى سَرِفَ، قَالَ:" فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ لَا تُزَعْزِعُوا بِهَا، وَلَا تُزَلْزِلُوا، ارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِلتَّاسِعَةِ". يُرِيدُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ. قَالَ عَطَاءٌ كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا، مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں، میں ان کے ساتھ مقام سرف گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمانے لگے: یہ ام المومنین ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ واللہ اعلم)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3261]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1665
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3262
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَمُوتُ، وَعِنْدَهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ، وَهُوَ مِنْ خَيْرِ بَنِيكِ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ تَزْكِيَتِهِ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَقِيهٌ فِي دِينِ اللَّهِ، فَأْذَنِي لَهُ، فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَلْيُوَدِّعْكِ. قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ. قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ سَلَّمَ وَجَلَسَ، وَقَالَ:" أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ يَذْهَبَ عَنْكِ كُلُّ أَذًى وَنَصَبٍ أَوْ قَالَ: وَصَبٍ وَتَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ أَوْ قَالَ: أَصْحَابَهُ إِلَّا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ. فَقَالَتْ: وَأَيْضًا؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ، فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مَسْجِدٌ إِلَّا وَهُوَ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ بِالْأَبْوَاءِ، فَاحْتَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ، وَالنَّاسُ مَعَهُ فِي ابْتِغَائِهَا أَوْ قَالَ: فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَصْبَحَ الْقَوْمُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 الْآيَةَ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلنَّاسِ عَامَّةً فِي سَبَبِكِ، فَوَاللَّهِ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ. فَقَالَتْ: دَعْنِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے)، اس نے کہا: اماں جان! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آ کر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کر لیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی، اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل امین علیہ السلام لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں: اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، واللہ! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3262]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3263
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ ، قَالَ:" وَلَكِنْ يَمْنَحُ أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُعْطِيَهُ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا".
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے بڑے عالم (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے بتایا (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے) کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3263]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ" وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُهُمْ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ".
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3264]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:1812
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا. قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَاكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3265]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں