🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: رَأَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا سَاجِدًا، قَدْ ابْتَسَطَ ذِرَاعَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَكَذَا يَرْبِضُ الْكَلْبُ،" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ".
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرتے ہوئے اپنے بازو زمین پر بچھا دیئے، انہوں نے فرمایا: اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3305]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شبعة مولى ابن عباس سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَعْنَى، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ: الْخَيَّاطُ، يَعْنِي حَمَّادًا فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَنَحْنُ عَلَيْهِ، حَتَّى جَاوَزْنَا عَامَّةَ الصَّفِّ، فَمَا نَهَانَا وَلَا رَدَّنَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گزر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا اور نہ واپس بھیجا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3306]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ، فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَانُونٌ عَلَيْهِ تَمَاثِيلُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا هَذَا الثَّوْبُ الَّذِي عَلَيْكَ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِسْتَبْرَقٌ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ" وَمَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ، وَالتَّكَبُّرِ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ". قَالَ: فَمَا هَذَا الْكَانُونُ الَّذِي عَلَيْهِ الصُّوَرُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا تَرَى كَيْفَ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ؟!.
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لئے تشریف لائے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، اور ان کے سامنے ایک انگیٹھی پڑی تھی جس میں کچھ تصویریں تھیں، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوالعباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب؟ فرمایا: یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا: واللہ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمد للہ ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3307]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ، فَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ، فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ فِي مُصَلَّاهَا تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتَدْعُوهُ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ:" يَا جُوَيْرِيَةُ، مَا زِلْتِ فِي مَكَانِكِ؟!" قَالَتْ: مَا زِلْتُ فِي مَكَانِي هَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَكَلَّمْتُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، أَعُدُّهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، هُنَّ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتِ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو بدل کر جویریہ رکھ دیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد نکلے اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے اور وہ کلمات یہ ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلُ ذَلِكَ» ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3308]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ" فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے تو لوگ اپنی سواریاں تیزی سے دوڑانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایک شخص نے یہ منادی کی کہ ”لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کر لو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3309]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: قَالَ: مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، أَحَدُ بَنِي سَلِمَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيَسَرِ؟" قَالَ: لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ، هَيْئَتُهُ كَذَا، هَيْئَتُهُ كَذَا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ"، وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ، افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ، وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ". أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، قَالَ: فَأَبَى، وَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي. قَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ، إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا، فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ، وَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ، فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا، فَافْدِ نَفْسَكَ" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْسُبْهَا لِي مِنْ فِدَايَ. قَالَ:" لَا، ذَاكَ شَيْءٌ أَعْطَانَاهُ اللَّهُ مِنْكَ"، قَالَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ. قَالَ:" فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ، حَيْثُ خَرَجْتَ، عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ، وَلَيْسَ مَعَكُمَا أَحَدٌ غَيْرَكُمَا، فَقُلْتَ: إِنْ أُصِبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا، فَلِلْفَضْلِ كَذَا، وَلِقُثَمَ كَذَا، وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا؟"، قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا عَلِمَ بِهَذَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میرے والد عباس کو قیدی بنا کر گرفتار کرنے والے صحابی کا نام سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ تھا، جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”ابوالیسر! تم نے انہیں کیسے قید کیا؟“ انہوں نے کہا کہ اس کام میں میری مدد ایک ایسے آدمی نے کی تھی جسے میں نے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں، اس کی ہیئت ایسی ایسی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اس کام میں تمہاری مدد ایک فرشتے نے کی تھی۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اپنا، اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم - جس کا تعلق بنو فہر سے تھا - کا فدیہ ادا کرو“، انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں تو بہت پہلے کا مسلمان ہو چکا ہوں، مجھے تو قریش نے زبردستی روک رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کا اصل معاملہ اللہ جانتا ہے، اگر آپ کا دعوی برحق ہے تو اللہ آپ کو اس کا بدلہ دے گا، لیکن ہم تو ظاہر کے ذمہ دار ہیں اس لئے کم از کم اپنی جان کا فدیہ ادا کرو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو فدیہ لیا تھا، وہ بیس اوقیہ سونا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرا فدیہ آپ الگ کر کے میرے لئے رکھ لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا: ”یہ تو اللہ نے ہمیں آپ سے دلوایا ہے“، وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس کچھ بھی مال و دولت نہیں رہا، فرمایا: ”وہ مال - جو تم نے مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت ام الفضل کے پاس رکھوایا تھا، اور اس وقت تم دونوں کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا - کہاں جائے گا؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں کام آ گیا تو اتنا فضل کا ہے، اتنا قثم کا اور اتنا عبداللہ کا“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے اور میری بیوی کے علاوہ کسی شخص کو بھی اس کا کچھ پتہ نہ تھا، اور میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3310]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن عكرمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: قَالَ: مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَقَصَّرَ آخَرُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ" قَالُوا: فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمْ الترحُّمَ؟ قَالَ:" لَمْ يَشُكُّوا" قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر کچھ لوگوں نے حلق کروایا اور کچھ نے قصر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے“، ایک صاحب نے عرض کیا: قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ ”اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حلق کرانے والوں میں ایسی کون سی بات ہے کہ آپ ان پر اتنی شفقت فرما رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ شک میں نہیں پڑے ہیں“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3311]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3312]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ، لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ.
حجاج کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے اس کپڑے کو پہن لے جسے دھو دیا گیا ہو اور اس میں زعفران کا کوئی ذرہ یا نشان باقی نہ رہا ہو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3313]

الحكم على الحديث:
هذا ليس بحديث، بل هو أثر عن عطاء، وإنما ذكره ليروي بعده حديث ابن عباس مرفوعا مثله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3314
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عن الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ".
گزشتہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مرفوعا مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3314]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة، وضعف الحسين بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں