🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 191، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورہ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ . . . . . سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [آل عمران: 190-191] » ”بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے، . . . . . تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3276]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 256
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3276M
(حديث مرفوع) حدثنا أَبو أحمدَ ، حدثنا إِسرائيلُ ، عن سِماكٍ ، عن عِكرمَة ، عن ابنِ عباس ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" في الرِّكازِ الخُمُسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3276M]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ، قَالَ يَحْيَى: قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ"، فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ، فَقَالَ:" عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ؟"، قَالَ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ، قَالَ: فَذَهَبَ، فَجَاءَ بِهِمْ، فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا، وَمَا فَعَلُوا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ سورة المجادلة آية 18 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے کوئی بات نہ کرنا۔“ تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا؟ اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ . . . . .﴾ [المجادلة: 18] » ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں . . . . .“ کہ یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3277]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِنْهُ حَرْفًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی لیکن ہم نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3278]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کر لینے کا حکم دیا (اور بعد میں اس کی قضا کر لی)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3279]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَظَهْرُهُ إِلَى الْمُلْتَزَمِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم شریف میں خطبہ دیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت ملتزم کی طرف تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3280]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف عبدالله ابن المؤمل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الدِّينُ النَّصِيحَةُ" قَالُوا: لِمَنْ؟ قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے“، لوگوں نے پوچھا: کس کے لئے؟ فرمایا: ”اللہ کے لئے، اس کے رسول کے لئے، اور ائمہ مؤمنین کے لئے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3281]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام سامعه من ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3282]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5700
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3283]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3284
(حديث مرفوع) حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أَعْطَاهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3284]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2279
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں