مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" ادْعُوا لِي عَلِيًّا" قَالَتْ عَائِشَةُ: نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ:" ادْعُوهُ"، قَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ:" ادْعُوهُ"، قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ؟ قَالَ:" ادْعُوهُ"، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَأْسَهُ، فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا، فَسَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِرٌ، وَمَتَى مَا لَا يَرَاكَ النَّاسُ يَبْكُونَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ. فَخَرَج أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ، سَبَّحُوا أَبَا بَكْرٍ، فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ: أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ، قَالَ: وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ، وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ السَّلَام. وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے، تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہو گئے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس علی کو بلاؤ“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلا لو“، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلا لو“، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلا لو“، جب یہ تمام لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ، اتنی دیر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رقیق القلب آدمی ہیں، جب لوگ آپ کو نہیں دیکھیں گے تو رونے لگیں گے اس لئے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، بہرکیف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بائیں جانب تشریف فرما ہو گئے، اور وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی، اور اسی مرض میں وصال فرما گئے، وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3355]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3356
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ، فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ".
ارقم بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مدینہ منورہ سے شام کا سفر کرتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رفاقت نصیب ہو گئی، میں نے ان سے دوران سفر پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی بنایا ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں بھی کوئی نماز جماعت سے نہیں چھوڑی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہت زیادہ بوجھل ہو گئی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے آ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اسی حال میں ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی نہ بنایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3356]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ مَخْتُونٌ، وَقَدْ قَرَأْتُ مُحْكَمَ الْقُرْآنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3357]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ : 5030
حدیث نمبر: 3358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ، أَوْ أَضْحًى، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس جا کر وعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3358]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 975
حدیث نمبر: 3359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ: يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ. فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي سُمَيْعٌ الزَّيَّاتُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ، فَأَخَذَ بِهِ".
اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ اگر امام کے ساتھ صرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے کہا کہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہو، میں نے ان سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3359]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ، قَالَ: وَعَفَارُ النَّخْلِ: أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤْبَرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا. وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا، حَمْشًا، سَبْطَ الشَّعْرِ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ، جَعْدٌ قَطَطٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَيِّنْ" ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! واللہ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگھریالے بالوں والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی: ”اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما“، اور ان کے درمیان لعان کروا دیا، اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3360]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَاعُ التَّمْرُ حَتَّى يُطْعَمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3361]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ، جَفَا، وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ، غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ، افْتَتَنَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دیہات میں رہا اس نے اپنے اوپر زیادتی کی، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہو گیا، اور جس کا بادشاہوں کے یہاں آنا جانا ہوا وہ فتنے میں مبتلا ہوا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3362]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى موسي
حدیث نمبر: 3363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَمَنْ مَعَهُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ. قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ثُمَّ جُعِلَتْ الْقِبْلَةُ نَحْوَ الْبَيْتِ، وقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو: ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3363]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة مضطرب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 3364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ، صَفًّا خَلْفَهُ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثم ذَهَبَ هؤلاء إِلى مَصَافِّ هؤلاء، ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں - جس کا نام ذی قرد تھا - نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3364]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح