🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْجَدِّ: أَمَّا الَّذِي، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُهُ"، فَإِنَّهُ قَضَاهُ أَبًا، يَعْنِي: أَبَا بَكْرٍ.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دادا کے مسئلے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ”اگر میں اس امت میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہیں بناتا“، یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3385]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4258
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنًَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی، اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3386]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6449، م: 2737
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: فِي السُّجُودِ فِي ص لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ،" وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورہ صٓ کا سجدہ ضروری تو نہیں ہے، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3387]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1069
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: سَأَلْت مُجَاهِدًا عَنْ السَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص، فَقَالَ: نَعَمْ، سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: أَتَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَفِي آخِرِهَا فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90، قَالَ:" أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِدَاوُدَ".
عوام بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص کے سجدے کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے یہ مسئلہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا، انہوں نے جواب دیا تھا کہ کیا تم یہ آیت پڑھتے ہو: « ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ . . . . .﴾ [الأنعام: 84] » ”ان ہی کی اولاد میں سے داوؤد اور سلیمان بھی ہیں . . . . .“ اور اس کے آخر میں ہے کہ « ﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [الأنعام:90] » ”آپ ان ہی کے طریقے کی پیروی کیجئے۔“ گویا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت داوؤد علیہ السلام کی اقتداء کرنے کا حکم دیا گیا ہے (اور انہوں نے سجدہ کیا تھا لہذا ان کی اقتداء میں سورہ ص کی آیت سجدہ پر سجدہ کیا جائے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3388]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3421
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ، فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ لِي هَكَذَا، فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3389]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 699
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ، فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا، فَعَجِلَتْ الْإِنْسَانَةُ، فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ، لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک فرشتہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے پاس آیا اور زمزم کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی ایڑی ماری جس سے ایک چشمہ ابل پڑا، انہوں نے جلدی سے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3390]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3362
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی شخص نے روزے کی حالت میں بوسہ دینے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے سر کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3391]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من بني سدوس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3392
حَدَّثَنَاه ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3392]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3392M
حدثناه عبدُ الوهاب ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ، فَأَصْبِحْ صَائِمًا". قَالَ يُونُسُ: فَأُنْبِئْتُ عَنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ: فَقُلْتُ: أَكَذَاكَ صَامَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ جب تم محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3393]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں