مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ؟، قَالَ: فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، سمعتهُ يقول:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا"، قَالَ: فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً، فَاصْفَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيْحَكَ، إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ، وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ.
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابوالعباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی کاریگری ہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ ”جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے گا تاکہ وہ ان تصویروں میں روح پھونکے، لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا“، یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ارے بھئی! اگر تمہارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3394]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2225، م: 2110
حدیث نمبر: 3395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، فَحَلَلْنَا، فَلُبِسَتْ الثِّيَابُ، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ، وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3395]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: قَالَ طَاوُسٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِيهِ، وَلَكِنَّهُ اسْتَقْبَلَ زَوَايَاهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے مختلف کونوں کی طرف رخ انور کر کے کھڑے ہوئے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3396]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 3397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر اور حضر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشا کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3397]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ليث
حدیث نمبر: 3398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3398]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ" وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64، وَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی، اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، « ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] » ”اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ اور « ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » ”تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3399]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 774
حدیث نمبر: 3400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3400]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ ”اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3401]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 3402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ الْحِلَى أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هُوَ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے، اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3402]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6491، م: 131
حدیث نمبر: 3403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر تازہ وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3403]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح