🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ سورة المائدة آية 42، قَالَ:" كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا قَتِيلًا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، أَدَّوْا إِلَيْهِمْ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قَتِيلًا، أَدَّوْا إِلَيْهِمْ الدِّيَةَ كَامِلَةً، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنهُمْ الدِّيَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت قرآنی: « ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ . . . . .﴾ [المائدة: 42] » ”اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے خواه ان کے آپس کا فیصلہ کرو خواه ان کو ٹال دو، . . . . .“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ بنو نضیر کے لوگ اگر بنو قریضہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتے تو وہ انہیں نصف دیت دیتے اور اگر بنو قریضہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتے تو وہ انہیں پوری دیت ادا کرنے پر مجبور ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قبیلوں کے درمیان برابر برابر دیت مقرر کر دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3434]

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ النُّفَسَاءَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ وَتُحْرِمُ وَتَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ حیض و نفاس والی عورت غسل کر کے احرام باندھ لے اور سارے مناسک حج ادا کرتی رہے، سوائے اس کے کہ پاک ہونے سے پہلے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3435]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا سند فيه ضعف، خصيف بن عبدالرحمن الجزري فيه ضعف من جهة حفظه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي ص".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورہ ص میں سجدہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3436]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ". قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا، اس وقت میری عمر دس سال تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3437]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، دون قول ابن عباس : وأنا يومئذ أبن عشر سنين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: دُعِينَا إِلَى طَعَامٍ، وَفِينَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ومِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ، قَالَ سَعِيدٌ : كُلُّكُمْ بَلَغَهُ مَا قِيلَ فِي الطَّعَامِ؟ قَالَ مِقْسَمٌ: حَدِّثْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَنْ لَمْ يَكُنْ يَسْمَعُ. فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ، فَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ وَسَطَهُ، وَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ. أَوْ حَافَتَيْهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3438]

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا،" فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ"، فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: لَقَدْ شَكَّكْتَنِي. قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتَيَّ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پیٹ کے بچے کو مار دینے کے مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ آ گئے اور فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں دو عورتوں کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو بیلن یا خیمہ کا ستون دے مارا، جس کے صدمے سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مر گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ ”اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا، اس کے بدلے میں ایک غلام مقتولہ کے ورثاء کو دے دیا جائے، اور اس عورت کے بدلے میں اس عورت کو قتل کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے کہا کہ مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت دوسری طرح سنائی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ تم نے مجھے شک میں ڈال دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3439]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِيعَةَ أَنْكَحَ ابْنَتَهُ رَجُلًا، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَتْ إِلَيْهِ أَنَّهَا أُنْكِحَتْ وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَانْتَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا، وَقَالَ:" لَا تُكْرِهُوهُنَّ". قَالَ: فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَتْ ثَيِّبًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوودیعہ - جن کا نام خذام تھا - نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کر دیا، ان کی بیٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے زبردستی کیا جا رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے شوہر سے الگ کر دیا اور فرمایا کہ ”عورت کو مجبور نہ کیا کرو۔“ پھر اس کے بعد اس لڑکی نے سیدنا ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی، یاد رہے کہ وہ شوہر دیدہ تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3440]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عطاء بن مسلم الخراساني صاحب أوهام كثيرة ثم هو لم يسمع من ابن عباس، وأصل القصة صحيح، أنظر صحيح البخاري : 5138
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ... نَحْوَهُ وَزَادَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا، فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرَفَاعَةَ، فَلَا يَتِمَّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى". ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا، فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ خاتون دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے نئے شوہر نے اسے چھو لیا ہے (لہذا وہ اب اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا (کیونکہ دوسرے شوہر کا ہمبستری کرنا شرط ہے، چھونا نہیں)، اور فرمایا: ”اے اللہ! اگر اس کی قسم اسے رفاعہ کے لئے حلال کرتی ہے تو اس کا نکاح دوسری مرتبہ مکمل نہ ہوگا“، پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ان دونوں کے دور خلافت میں بھی پہلے شوہر کے پاس واپس جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آئی لیکن ان دونوں نے بھی اسے روک دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3441]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا: ”اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3442]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1621
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ، أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" قُدْهُ بِيَدِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا: ”اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3443]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1620
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں