مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ، يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3414]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
حدیث نمبر: 3415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِليهِ مِنْ رَقِيقِ الْمُشْرِكِينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3415]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 3416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ سَلْمٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنْ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ، فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی دوسرے کی باندی سے قربت کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، جس شخص نے زمانہ جاہلیت میں ایسا کیا ہو، میں اس قربت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو اس کے عصبہ سے ملحق قرار دیتا ہوں اور جو شخص بغیر نکاح کے کسی بچے کو اپنی طرف منسوب کرنے کا دعوی کرتا ہے (اور یہ کہتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، حالانکہ اس بچے کی ماں سے اس کا نکاح نہیں ہوا) تو وہ بچہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہی مورث (دونوں میں سے کسی کو دوسرے کی وراثت نہیں ملے گی)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3416]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة راويه عن سعد بن جبير
حدیث نمبر: 3417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ، لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا: ”ہم محرم ہیں، اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے تم سے قبول کر لیتے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3417]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 3418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الثَّوْبِ الْمَصْبُوغِ، مَا لَمْ يَكُنْ بِهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت دی ہے جبکہ اس میں رنگ کا کوئی ذرہ یا نشان نہ ہو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3418]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة، ولضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 3419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ، مِنْهُمْ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ، ابْنُ أَخِيكَ يَشْتِمُ آلِهَتَنَا، يَقُولُ وَيَقُولُ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فأرسل إليه فانهه. قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ، وَكَانَ قُرْبَ أَبِي طَالِبٍ مَوْضِعُ رَجُلٍ، فَخَشِيَ إِنْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَمِّهِ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ، فَوَثَبَ، فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا إِلَّا عِنْدَ الْبَابِ فَجَلَسَ، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ قَوْمَكَ يَشْكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ، وَتَقُولُ وَتَقُولُ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ. فَقَالَ:" يَا عَمِّ، إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ"، قَالُوا: وَمَا هِيَ؟ نَعَمْ وَأَبِيكَ، عَشْرًا. قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، قَالَ: فَقَامُوا وَهُمْ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ سورة ص آية 5 - 8.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، ابوطالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابوجہل آ کر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ ابوطالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا“، انہوں نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» “، یہ سن کر وہ لوگ کپڑے جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے، اس پر سورہ ص نازل ہوئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ « ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ » پر پہنچے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3419]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عباد بن جعفر فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 3420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرِ، فَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَكِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ، كُنْتِ تَقْضِينَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:" فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضا کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3420]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1903، م: 1148
حدیث نمبر: 3421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3421]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1421
حدیث نمبر: 3422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ؟ قَالُوا: قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ،" كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ".
ابوظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قراءت کون سی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ ہم نے عرض کیا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا: نہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3422]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتِبِ يُقْتَلُ، يُودَى لِمَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ، وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3423]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح