مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ بِالْمَدِينَةِ، فَمَرَّ شَيْخٌ يُقَالُ لَهُ شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعْدٍ، مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ، فَقَالَ: لَأَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ حَقًّا، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ، قَالَ: حَدِّثْ بِهِ الْقَوْمَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ، فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا، إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک بزرگ گزرے جن کا نام ابوسعید شرحبیل تھا، زید نے ان سے پوچھا: اے ابوسعید! آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: امیر المومنین کے پاس سے، میں نے انہیں ایک حدیث سنائی، اگر یہ حدیث سچی ہو تو میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بھی یہ حدیث سنائیے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے، تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3424]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعيد
حدیث نمبر: 3425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ، حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان کی ملاقت ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3425]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1902، م:2308
حدیث نمبر: 3426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمَعْنَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ، إِنَّهُ يُنْبِتُ الشَّعْرَ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں، اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3426]
الحكم على الحديث:
إسناده قويان
حدیث نمبر: 3427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَلَوْ أُعْطِيَ النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى أُنَاسٌ أَمْوَالَ النَّاسِ وَدِمَاءَهُمْ".
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بنا پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3427]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2514، م: 1711
حدیث نمبر: 3428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْعَطَّارُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ:" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفِ دِينَارٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3428]
الحكم على الحديث:
صحيح موقوقا، وهذا إسناد ضعيف جدا، عطاء العطار ضعيف جدا
حدیث نمبر: 3429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ عَفَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، يُوحَى إِلَيْهِ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ کی عمر چالیس برس تھی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد تیرہ برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3429]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2351
حدیث نمبر: 3430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ، فَسَكَنَ، وَقَالَ:" لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا رہی رہتا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3430]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3431
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3431]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3432
حَدَّثَنَاه الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3432]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَعَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَظْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3433]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس