🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ: ولَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ فَعَلَ، لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا: اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3483]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3484
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ أَحْسِبُهُ يَعْنِي فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ نَحْرِي، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ؟ قَالَ: الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بعدَ الصَّلّواتِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ، وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَقُلْ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً، أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ بَذْلُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”آج رات مجھے خواب میں اپنے پروردگار کی زیارت ایسی بہترین شکل و صورت میں نصیب ہوئی جو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں، پروردگار نے مجھ سے فرمایا: ”اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ ملاء اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اس پر پروردگار نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا جس کی ٹھنڈک مجھے اپنے سینے میں محسوس ہوئی اور میں نے اس کی برکت سے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کی معلومات حاصل کر لیں، پھر اللہ نے فرمایا: ”اے محمد! کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! وہ کفارات اور درجات کے بارے جھگڑ رہے ہیں، پوچھا: ”کفارات سے کیا مراد ہے؟“ بتایا کہ ”نمازوں کے بعد مسجد میں رکنا، اپنے قدموں پر چل کر جمعہ کو آنا، اور مشقت کے باوجود (جیسے سردی میں ہوتا ہے) اچھی طرح وضو کرنا، جو شخص ایسا کر لے اس کی زندگی بھی خیر والی ہوئی اور موت بھی خیر والی ہوئی، اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے گا گویا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔ اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب تم نماز پڑھا کرو تو یہ دعا کیا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ» ”اے اللہ! میں آپ سے نیکیوں کی درخواست کرتا ہوں، گناہوں سے بچنے کی دعا کرتا ہوں، اور مساکین کی محبت مانگتا ہوں، اور یہ کہ جب آپ اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں مبتلا کرنا چاہیں تو مجھے اس آزمائش میں مبتلا کئے بغیر ہی اپنی طرف اٹھا لیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ درجات سے مراد کھانا کھلانا، سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز پڑھنا ہے جب لوگ سو رہے ہوں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3484]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يسمع من ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاهَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا، قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ. قَالَ: فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى أَبِيهَا، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ فِي الْحِجْرِ، قَدْ تَعَاهَدُوا أَنْ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ. قَالَ:" يَا بُنَيَّةُ، أَدْنِي وَضُوءًا" فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: هُوَ هَذَا، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ، وَلَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، فَحَصَبَهُمْ بِهَا، وَقَالَ:" شَاهَتْ الْوُجُوهُ". قَالَ: فَمَا أَصَابَتْ رَجُلًا مِنْهُمْ حَصَاةٌ، إِلَّا قَدْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے، اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”بیٹی! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: وہ یہ رہے، لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں، اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں، اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا: ”یہ چہرے بگڑ جائیں“ اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3485]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونَ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مہاجرین کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا اور انصار کی طرف سے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس، اور جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3486]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَسُئِلَ: هَلْ شَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا قَرَابَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَوَعَظَ النِّسَاءَ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَأَهْوَيْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَتَصَدَّقْنَ بِهِ، قَالَ: فَدَفَعْنَهُ إِلَى بِلَالٍ".
عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں؟ فرمایا: ہاں! اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، اور عورتوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اپنے کانوں اور گلوں سے اپنے زیورات اتارے اور انہیں صدقہ کرنے کے لئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3487]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 863
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا أَقَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ".
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کرنے کے قائل نہ تھے، اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے قیام کیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3488]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة الحجاج بن أرطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3489]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَبِتُّ عِنْدَهَا، فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى نَاحِيَةٍ مِنْهَا، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَيْهِ لَيْلٌ، فعاد فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، أَوْ قَالَ: ثُلُثَاهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى قِرْبَةٍ عَلَى شَجْبٍ فِيهَا مَاءٌ، فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مّرةً، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ يَزِيدُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتَى مُصَلَّاهُ، فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، لَفَتَ يَمِينَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا، قَامَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ، أَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ، حَتَّى سَمِعْتُ فَخِيخَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً". فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: مَا أَحْسَنَ هَذَا! فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَمَا وَاللَّهِ، لَقَدْ قُلْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَهْ، إِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ، إِنَّهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ كَانَ يَحْفَظُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گزاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر گھر میں داخل ہوئے اور چمڑے کے بنے ہوئے اس تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئے جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے بھی آ کر اس تکیے کے ایک کونے پر سر رکھ دیا، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، دیکھا تو ابھی رات کافی باقی تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بستر پر واپس آ کر تسبیح و تکبیر کہی اور سو گئے۔ دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو رات کا ایک یا دو تہائی حصہ بیت چکا تھا، لہذا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، قضاء حاجت کی اور ستون خانے میں لٹکی ہوئی مشک کے پاس آئے جس میں پانی تھا، اس سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، پھر سر اور کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، اور اپنی جائے نماز پر جا کر کھڑے ہو گئے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کچھ کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تو کچھ نہیں کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں ان ہی کی نماز میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں تو اپنا داہنا ہاتھ بڑھا کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا احساس باقی رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتیں پڑھیں اور ساتویں میں وتر کی نیت کر لی، جب روشنی ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ کوئی اچھا کام ہے؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ واللہ! میں نے بھی یہی بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا: خبردار! یہ حکم تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ہے، یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کیونکہ سوتے میں بھی ان کی حفاظت کی جاتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3490]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عباد بن منصور ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ، أَيَتَطَيَّبُ؟ فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا، فَقَدْ رَأَيْتُ الْمِسْكَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَمِنْ الطِّيبِ هُوَ أَمْ لَا؟".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3491]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع بين الحسن بن عبدالله العرني وبين ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِّثْنِي عَنِ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ. فَقَالَ:" صَدَقُوا وَكَذَبُوا"، قُلْتُ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا. مَاذَا؟، قَالَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتْ الْعَوَاتِقُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ، وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ".
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی، اگر وہ سواری پر نہ ہوتے تو انہیں پیدل چلنا ہی زیادہ محبوب ہوتا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3492]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1264
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں