مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ وَغَيْرُهُ، عَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ فِي الْحَائِضِ نِصَابَ دِينَارٍ، فَإِنْ أَصَابَهَا، وَقَدْ أَدْبَرَ الدَّمُ عَنْهَا وَلَمْ تَغْتَسِلْ، فَنِصْفُ دِينَارٍ. كُلُّ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام والی عورت سے ہمبستری میں ایک دینار کا نصاب مقرر کیا ہے، اور اگر مرد نے اس سے اپنی خواہش اس وقت پوری کی جبکہ خون تو منقطع ہو چکا تھا لیکن ابھی اس نے غسل نہیں کیا تھا تو اس صورت میں قربت پر نصف دینار واجب ہوگا، اور یہ سب تفصیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3473]
الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالكريم بن أبى المخارق
حدیث نمبر: 3474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُنْكِرُ أَنْ يُتَقَدَّمَ فِي صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا لَمْ يُرَ هِلَالُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَيَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَمْ تَرَوْا الْهِلَالَ، فَاسْتَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ لَيْلَةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا تھا جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، خواہ چاند نظر نہ آیا ہو، اور وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3474]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، محمد بن جبير وهو خطأ، صوابه محمد بن حنين وهو مجهول
حدیث نمبر: 3475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَوْ رَمَضَانَ، قَالَ رَوْحٌ: أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3475]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2006، م: 1132
حدیث نمبر: 3476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ : دَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" لَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فِيهِ لَبَنٌ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَشَرِبَ مِنْهُ، فَلَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّاسَ مُسْتَنُّونَ بِكُمْ". قَالَ ابْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ إِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ.
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا، اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3476]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين ابن جريج وبين عطاء
حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3477]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زكرياء بن عمر لم يوثقه غير ابن حبان
حدیث نمبر: 3478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فرض نمازوں سے فراغت کے بعد اونچی آواز سے اللہ کا ذکر کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں تھا، اور مجھے تو لوگوں کے نماز سے فارغ ہونے کا علم ہی جب ہوتا کہ میں یہ آواز سن لیتا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3478]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 841، م: 583
حدیث نمبر: 3479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ، فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، مشکیزے سے وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھ کر کھڑا ہوا، مشکیزے سے وضو کیا اور بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کمر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3479]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م : 863
حدیث نمبر: 3480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَعَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: كَانَ إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ، جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ، وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ، سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعَصْرُ نَزَلَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا حَانَتْ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ، جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ، حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعِشَاءُ، نَزَلَ، فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا".
عکرمہ اور کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہارے سامنے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان نہ کروں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کی جگہ میں اگر سورج اپنی جگہ سے ڈھلنا شروع ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے سے پہلے ظہر اور عصر کو جمع فرما لیتے، اور اگر پڑاؤ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سفر جاری رکھتے، اور جب عصر کا وقت آتا تو پڑاؤ کرتے اور ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھتے، اسی طرح اگر مغرب کا وقت پڑاؤ میں ہی ہو جاتا تو اسی وقت مغرب اور عشا کو جمع فرما لیتے، ورنہ سفر جاری رکھتے اور عشا کا وقت ہو جانے پر پڑاؤ کرتے اور مغرب و عشا کی نماز اکٹھی پڑھ لیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3480]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله بن عبيد الله بن عباس
حدیث نمبر: 3481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ". قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3481]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 3482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ. قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ:" حَاضِرٌ لِبَادٍ" قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تاجروں سے راستہ ہی میں مل کر اپنی مرضی کے بھاؤ سودا خرید لیا جائے، یا کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے خرید و فروخت کرے، راوی نے جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے دلال نہ بنے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3482]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2158، م: 1521