مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" قَدْ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3493]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لم يدرك ابن عباس
حدیث نمبر: 3494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ، إِذَا فَاتَنِي الصَّلَاةُ فِي الْجَمَاعَةِ؟ فَقَالَ:" رَكْعَتَيْنِ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3494]
الحكم على الحديث:
صحيح، م: 688
حدیث نمبر: 3495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَسْقَى فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ، فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا"، فَنَحْنُ لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار مسجد میں داخل ہوئے، ان کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو“، یہی وجہ ہے کہ اب ہم اسے بدلنا نہیں چاہتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3495]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1316
حدیث نمبر: 3496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ"، قَالَ مِسْعَرٌ وَأَظُنُّهُ قَالَ:" أَوْ عَلَفًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غلہ خریدے، اسے قبضہ سے قبل آگے مت فروخت کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3496]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2130، م: 1525
حدیث نمبر: 3497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا جو انہوں نے کھڑے کھڑے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3497]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 3498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ، ومِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3498]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 478
حدیث نمبر: 3499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3499]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
حدیث نمبر: 3500
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ:" شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ، رَآهُ بِعَيْنِهِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت ذیل کی وضاحت میں: « ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ [الإسراء: 60] » ”ہم نے اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیداری میں آنکھوں سے دکھائی گئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3500]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3888
حدیث نمبر: 3501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سمعتُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يقول:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا، لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا؟.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر ابن آدم کے پاس مال و دولت سے بھری ہوئی پوری وادی بھی ہو تو اس کی خواہش یہی ہوگی کہ اس جیسی ایک اور وادی بھی اس کے پاس ہو، اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کر لیتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں، اب یہ قرآن کا حصہ ہے یا نہیں؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3501]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6436 ، م : 1049
حدیث نمبر: 3502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سمعت ُابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ، أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيَّةً، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ لَهُ الصُّبْحُ، قَامَ فَصَلَّى الْوَتْرَ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ وَتْرِهِ، أَمْسَكَ يَسِيرًا، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ فِي نَفْسِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ، فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ جَخِيفَهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَنَبَّهَهُ لِلصَّلَاةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گزاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی . . . . .، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا رک کر روشنی ہونے کے بعد نو رکعتیں پڑھیں اور ان میں وتر کی نیت کر لی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے رہے، جب روشنی ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3502]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور