🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا صَائِمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2589]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2590]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَأَيُّوبَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا صُرِعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَأَنْ يُكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ , وَأَنْ لَا يُخَمِّرُوا رَأْسَهُ , فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا" , وَقَالَ أَيُّوبُ: مُلَبِّدًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2591]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَيَقُولُ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ: سَرِفُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ، أَقْبَلَ، حَتَّى كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ، أَعْرَسَ بِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2592]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" صَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، پھر عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں (اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر) صدقہ دینے لگیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2593]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 98، م: 884
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2594
(حديث مرفوع) َحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ صَائِمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2594]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ:" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2595]

الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2596]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ، إِلَّا لَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطا فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے“، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2597]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 141. م: 1434
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَذَرْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا" , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ" , قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا، وَعَطَاءً، وَمُجَاهِدًا، وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ، قَالَ شُعْبَةُ: كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لئے نفع بخش تھا، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم زیادہ بہتر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے وہ خود کاشت کرے، یا چھوڑ دے، یا پھر کسی کو ہبہ کر دے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2598]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں