🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ" نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ" , قَالَ: رَفَعَهُ الْحَكَمُ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُحَدِّثَ بِرَفْعِهِ , قَالَ: وَحَدَّثَنِي غَيْلَانُ ، وَالْحَجَّاجُ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، لَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2619]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ، فَقَالَ:" دَعُوهُ وَسَلَبَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، وہ اس وقت ایک آدمی کے پاس کھڑے تھے جسے انہوں نے قتل کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتول کا ساز و سامان ان ہی کے پاس چھوڑ دو۔“ (کیونکہ اس وقت یہ اصول تھا کہ میدان جنگ میں جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کا ساز و سامان اسی کو ملے گا)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2620]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن كان سفيان الثوري سمعه من الحكم بن عتيبة، فقد رواه غير المصنف فأدخل بينهما محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى وهو سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَوَّى بَيْنَ الْأَسْنَانِ وَالْأَصَابِعِ فِي الدِّيَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2621]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ، كَالَّذِي يَقِيءُ، ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2622]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا، لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گناہ کا کفارہ ندامت ہے“، اور فرمایا: ”اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرما سکے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2623]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن عمرو ضعيف وأبوه يغرب ويخطئ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ شَقِيقٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2624]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6895
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ، وَالْمَيْسِرَ، وَالْكُوبَةَ"، وَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے“، اسی طرح فرمایا کہ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2625]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَقَالَ:" إِذَا جَاءَ صَاحِبُهُ يَطْلُبُ ثَمَنَهُ، فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2626]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، أَنَّ مَيْمُونَ الْمَكِّيَّ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ" رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى بِهِمْ، يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ , وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَسْجُدُ، وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ، فَيَقُومُ، فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا، فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ، فَقَالَ: إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ".
میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع و سجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے، اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نماز کی اقتدا کرو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2627]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ميمون المكي مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَالَ رَجُلٌ: كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْوُضُوءِ؟ قَالَ: مُدٌّ , قَالَ: كَمْ يَكْفِينِي لِلْغُسْلِ؟ قَالَ: صَاعٌ , فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا يَكْفِينِي , قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ ایک شخص نے پوچھا کہ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ انہوں نے فرمایا: ایک مد کے برابر، اس نے پوچھا کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ فرمایا: ایک صاع کے برابر، وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے تو اتنا پانی کفایت نہیں کرتا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے، اتنی مقدار اس ذات کو کافی ہو جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2628]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں