🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2599
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 , قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عَجِلْتَ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ مِنْ بُطُونِ قُرَيْشٍ، إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَقَالَ: إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ".
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کا مطلب پوچھا: « ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ [الشورى: 23] » تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بول پڑے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کر لو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2599]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4818
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ، فَأْقعَصَتْهُ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ:" لَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، خَارِجَ رَأْسِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: خَارِجَ رَأْسِهِ، أَوْ وَجْهِهِ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2600]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2601
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، وَأَنَا مَخْتُونٌ، وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ مِنَ الْقُرْآنِ" , قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي بِشْرٍ: مَا الْمُحْكَمُ؟ قَالَ: الْمُفَصَّلُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، درحقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا اور میرے ختنے بھی ہو چکے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2601]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ،" فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں ان کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2602]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 117، م: 763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2603
(حديث مرفوع) َحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2603]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوَْمَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ، يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ" , وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ:" إِذَا رَكَعْتَ، فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ، وَقَالَ الْهَاشِمِيُّ مَرَّةً: حَتَّى تَطْمَئِنَّا، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ، حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کا کوئی مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو“، یعنی اسے اسباغ وضو کا حکم دیا، ان ہی میں سے ایک بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ ”جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو یہاں تک کہ تم اطمینان سے رکوع کر لو، اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی کو زمین پر ٹکا دو یہاں تک کہ زمین کا حجم محسوس کرنے لگو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2604]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ قَالَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَسْدِلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ شُعُورَهُمْ، وَكَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2605]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3944.، م : 2336
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" كَانَ يَشْرَبُ بِالنَّهَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّيْلِ، وَيَشْرَبُ بِاللَّيْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّهَارِ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیار کی جانے والی نبیذ دن کو، اور دن کو تیار کی جانے والی نبیذ رات کو پی لیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2606]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّقِيرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ" , فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ، ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر، دباء اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے کہ ”صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جنہیں باندھا جا سکے“ (منہ بند ہو جائے)، لوگوں نے اونٹ کی کھالوں کے مشکیزے بنائے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھال استعمال کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ ”صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جن کا اوپر والا حصہ بھی ان برتنوں کا جزو ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2607]

الحكم على الحديث:
هذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله. لكن النهي عن النقير والدباء والمزفت صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ , قَالَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا ہے اور انہوں نے کھڑے ہو کر زمزم پیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2608]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں