مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: مَا نَصَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي مَوْطِنٍ، كَمَا نَصَرَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ: وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ سورة آل عمران آية 152 , يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَالْحَسُّ: الْقَتْلُ , حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سورة آل عمران آية 152 , وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ، ثُمَّ قَالَ:" احْمُوا ظُهُورَنَا، فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا نُقْتَلُ، فَلَا تَنْصُرُونَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَكُونَا" , فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ، أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا، فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ، وَقَدْ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُمْ هكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَالْتَبَسُوا، فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا، دَخَلَتْ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَالْتَبَسُوا، وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ أَوَّلُ النَّهَارِ، حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ، أَوْ تِسْعَةٌ، وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَةً نَحْوَ الْجَبَلِ، وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ، إِنَّمَا كَانُوا تَحْتَ الْمِهْرَاسِ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ، حَتَّى طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى، قَالَ: فَفَرِحْنَا كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا، قَالَ: فَرَقِيَ نَحْوَنَا، وَهُوَ يَقُولُ:" اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ رَسُولِهِ" , قَالَ: وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى:" اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا" , حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا , فَمَكَثَ سَاعَةً، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ: اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ يَعْنِي: آلِهَتَهُ، أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُجِيبُهُ؟ قَالَ:" بَلَى" , فَلَمَّا قَالَ: اعْلُ هُبَلُ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ , قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَيْنُهَا، فَعَادِ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا، فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ، وَهَأَنَا ذَا عُمَرُ , قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، الْأَيَّامُ دُوَلٌ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ , قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا سَوَاءً، قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ , قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونَ ذَلِكَ، لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلًي، وَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ عَنْ رَأْيِ سَرَاتِنَا , قَالَ: ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَاكَ , وَلَمْ يَكْرَهُّه.
عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ جس طرح اللہ نے جنگ احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، کسی اور موقع پر اس طرح مدد نہیں فرمائی، ہمیں اس پر تعجب ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میری بات پر تعجب کرنے والوں اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ تعالیٰ غزوہ احد کے حوالے سے فرماتے ہیں: « ﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ﴾ [آل عمران: 152] » ”اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے۔“ (لفظ «حس» کا معنی قتل ہے) اور اس سے مراد تیر انداز ہیں۔ اصل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کو ایک جگہ پر کھڑا کیا تھا اور ان سے فرما دیا تھا کہ ”تم لوگ پشت کی طرف سے ہماری حفاظت کرو گے، اگر تم ہمیں قتل ہوتا ہوا بھی دیکھو تو ہماری مدد کو نہ آنا، اور اگر ہمیں مال غنیمت اکٹھا کرتے ہوئے دیکھو تب بھی ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔“ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیم پر فتح اور مال غنیمت حاصل ہوا اور مسلمان مشرکین کے لشکر پر پل پڑے تو وہ تیر انداز بھی اپنی جگہ چھوڑ کر مشرکین کے لشکر میں داخل ہو گئے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا، یوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صفیں آپس میں یوں مل گئیں، راوی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھائیں، اور یہ لوگ خلط ملط ہو گئے۔ ادھر جب تیر اندازوں کی جگہ خالی ہو گئی تو وہیں سے کفار کے گھوڑے اتر اتر کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑھنے لگے، لوگ ایک دوسرے کو مارنے لگے اور انہیں التباس ہونے لگا، اس طرح بہت سے مسلمان شہید ہو گئے، حالانکہ میدان صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ہاتھ رہا تھا اور مشرکین کے سات یا نو علمبردار بھی مارے گئے تھے۔ بہرحال! مسلمان پہاڑ کی طرف گھوم کر پلٹے لیکن وہ اس غار تک نہ پہنچ سکے جو لوگ کہہ رہے تھے، وہ محض ایک ہاون دستہ نما چیز کے نیچے رہ گئے تھے، دوسری طرف شیطان نے یہ افواہ پھیلا دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے، کسی کو اس کے صحیح ہونے میں شک تک نہ ہوا، ابھی ہماری یہی کیفیت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد نامی دو صحابہ رضی اللہ عنہما کے درمیان طلوع ہوئے، ہم نے انہیں ان کی چال ڈھال سے پہچان لیا، ہم بہت خوش ہوئے اور ایسی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف چڑھنے لگے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ ”اس قوم پر اللہ کا بڑا سخت غضب نازل ہوگا جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلود کر دیا“، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ ہم پر غالب نہ آنے پائیں“، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک پہنچ گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ابوسفیان کی آواز پہاڑ کے نیچے سے آئی جس میں وہ اپنے معبود ہبل کی جے کاری کے نعرے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ابن ابی کبشہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟ ابن ابی قحافہ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کہاں ہیں؟ ابن خطاب (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کہاں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اسے جواب نہ دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“، چنانچہ جب ابوسفیان نے ”ہبل کی جے ہو“ کا نعرہ لگایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگایا اور فرمایا: اللہ بلند و برتر ہو اور بزرگی والا ہو، ابوسفیان کہنے لگا: اے ابن خطاب! تم ہبل سے دشمنی کرو یا دوستی، اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، پھر کہنے لگا کہ ابن ابی کبشہ، ابن ابی قحافہ اور ابن خطاب کہاں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں اور یہ میں ہوں عمر۔ ابوسفیان نے کہا کہ یہ جنگ بدر کا انتقام ہے، جن کی مثال ڈول کی طرح ہے اور جنگ بھی ڈول کی طرح ہوتی ہے (جو کبھی کسی کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور کبھی کسی کے)، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں بھی برابری نہیں، ہمارے مقتول جنت میں ہوں گے اور تمہارے مقتول جہنم میں، ابوسفیان نے کہا کہ یہ تمہارا خیال ہے، اگر ایسا ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، پھر اس نے کہا کہ مقتولین میں تمہیں کچھ لاشیں ایسی بھی ملیں گی جن کے ناک کان کاٹ لئے گئے ہیں، یہ ہمارے سرداروں کے مشورے سے نہیں ہوا، پھر اسے جاہلیت کی حمیت نے گھیر لیا اور وہ کہنے لگا کہ بہرحال! ایسا ہوا ہے، گویا اس نے اسے ناپسند نہیں سمجھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2609]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَخْرَجَتْ صَبِيًّا لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2610]
الحكم على الحديث:
صحيح، م: 1336، عبدالله العمري ضعيف، لكنه متابع
حدیث نمبر: 2611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ , قَالَا:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى لَيْلًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی سے رات کو واپس ہوئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2611]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وفي سماعه من ابن عباس وعائشة نظر
حدیث نمبر: 2612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ : أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت کو مؤخر فرما دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2612]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ؟ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ، وَلَكِنْ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَكَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم نے قسم تو کھا لی، لیکن تمہارے «لَا إِلٰهَ ِإلَّا اللّٰهُ» کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہو گئے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2613]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهذا الحديث من مناكير عطاء بن السائب
حدیث نمبر: 2614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ، فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ، فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَيَقُولُ:" وَمَا يُدْرِينِي، لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کر لیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پانی آپ کے قریب موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2614]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2615]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2616]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6، م: 2308
حدیث نمبر: 2617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْأَسْلَمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَقَالَ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا ہاتھ لگایا ہوگا، یا صرف دیکھا ہوگا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2617]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2824
حدیث نمبر: 2618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَأْكُلْ الشَّرِيطَةَ، فَإِنَّهَا ذَبِيحَةُ الشَّيْطَانِ".
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسے جانور کو مت کھاؤ جس کی کھال تو کاٹ دی گئی ہو لیکن رگیں کاٹے بغیر اسے مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہو کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2618]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عمرو بن عبدالله ضعيف