مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8266
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرِو الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَار ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّار، وَمَنْ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ رُشْدٍ، فَقَدْ خَانَه، وَمَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا غَيْرِ ثَبْتٍ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی اور جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8266]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عمرو، أما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 8267
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلانِيُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا بِهِ أَنْتُمْ وَلا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب آخر زمانے میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی اور نہ ہی تمہارے آباء و اجداد نے ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا اور ان سے دور رہنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8267]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4830، م: 2554
حدیث نمبر: 8268
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الأَْعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " إِذَا سَمِعْتُمْ أَصْوَاتَ الدِّيَكَة، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، فَاسْأَلُوا اللَّهَ وَارْغَبُوا إِلَيْهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا، فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَتْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم (رات کے وقت) مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت اللہ کے فضل کا سوال کرو اور جب (رات کے وقت) گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8268]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
حدیث نمبر: 8269
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الأْعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم....، فذكر معناه.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8269]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8270
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو ہم پر تیر اندازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8270]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وفي هذا الإسناد ضعف من جهة يحيى، فهو لين الحديث
حدیث نمبر: 8271
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " حَقُّ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَه , وَيُشَمِّتَهُ إِذَا عَطَسَ، وَإِنْ دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ، وَإِذَا غَابَ أَنْ يَنْصَحَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں (١) ملاقات ہو تو سلام کرے (٢) چھینکے تو اس کا جواب دے (٣) دعوت دے تو قبول کرے (٤) بیمار ہو تو عیادت کرے (٥) مرجائے تو جنازے میں شرکت کرے (٦) پیٹھ پیچھے اس کی خیر خواہی کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8271]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1240، م: 2162، فى هذا الإسناد ضعف، عبدالله فيه لين
حدیث نمبر: 8272
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ، فقَالَ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ، وَتَدْعُوَ بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، قلَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ، وَإِيمَانًا فِي خُلُقٍ حَسَن، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلاَحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ، وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ، وَرِضْوَانًا" , قَالَ أَبِي: وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ:" يَتْبَعُهُ فَلاَحٌ وَرَحْمَةٌ مِنْكَ، وَعَافِيَةٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ، وَرِضْوَانٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو جو سلمان الخیر کے نام سے مشہور تھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نبی تمہیں چند کلمات کا تحفہ دینا چاہتے ہیں جن کے ذریعے تم رحمان سے سوال کرسکو اس کی طرف اپنی رغبت ظاہر کرسکو اور رات دن ان کلمات کے ذریعے اسے پکارا کرو چنانچہ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ میں تجھ سے ایمان کی درستگی کی درخواست کرتا ہوں ایمان کے ساتھ حسن اخلاق اور ایسی کامیابی جس میں دارین کی فلاح آجائے چاہتا ہوں اور آپ سے آپ کی رحمت عافیت مغفرت اور رضامندی کا طلبگار ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8272]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالله، فيه ضعف، ثم هو منقطع، ابن حجيرة ليست له رواية عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 8273
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الَأعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلا يَقْرَبَنَّ مُصلََّانَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس گنجائش ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8273]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالله ابن عياش ضعيف يعتبر به، وقد اضطرب فيه أيضاً
حدیث نمبر: 8274
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَزَالُ لِهَذَا الأْمْرِ أَوْ عَلَى هَذَا الَأمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ، ولا يَضُرُّهُمْ خِلاَفُ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8274]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 8275
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ أَبُو خَيْرَةَ: لا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآْخِرِ، مِنْ ذُكُورِ أُمَّتِي، فَلا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَر، وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ إِنَاثِ أُمَّتِي، فَلا تَدْخُلْ الْحَمَّامَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے مردوں میں سے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند کے بغیر حمام میں نہ جایا کرے اور میری امت کی عورتوں میں سے جو خاتون اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں بالکل نہ جایا کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8275]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو خيرة لا يعرف