🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8276
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّد ، ٍوَابْنُ جَعْفَر حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أنه قال: " أَنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، ثَلَاثِينَ آيَةً، شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِي: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ سورة الملك آية 1" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ایسی ہے جس نے ایک آدمی کے حق میں سفارش کی حتٰی کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ سورت ملک ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8276]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8277
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: تَفَرَّجَ النَّاسُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ: أَيُّهَا الشَّيْخُ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ وَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى قُتِلْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُعَرِّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَال: تَعَلَّمْتُ فِيكَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، فَقَال: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ لِيُقَالَ: هُوَ عَالِمٌ، فَقَدْ قِيلَ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ، فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ ذَلِكَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَّادٌ، فَقَدْ قِيلَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ" .
سلمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس درس ختم ہوئی اور لوگ چھٹ گئے تو ناتل شامی نام کے ایک شخص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت! ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا وہ تین قسم کے لوگ ہوں گے ایک تو وہ آدمی جو شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنے انعامات گنوائے گا وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ پھر تو نے کیا عمل سر انجام دیا؟ وہ عرض کرے گا کہ میں نے آپ کی راہ میں جہاد کیا حتی کہ میں شہید ہوگیا اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے اس لئے قتال کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو وہ کہا جاچکا اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے لے جا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ دوسرا وہ آدمی جس نے علم سیکھا اور سکھایا ہوگا اور قرآن پڑھ رکھا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اپنے انعامات شمار کروائے گا اور وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ تو نے کیا عمل سر انجام دیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے علم حاصل کیا اور تیری رضاء کے لئے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضاء کے لئے قرآن پڑھا اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے علم اس لئے حاصل کیا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے سو وہ کہا جا چکا اور تو نے قرآن اس لئے پڑھا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو وہ کہا جا چکا اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے لے جا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تیسرا وہ آدمی ہوگا جس پر اللہ نے کشادگی فرمائی اور اسے ہر قسم کا مال عطاء فرمایا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اپنے انعامات شمار کروائے گا اور وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ پھر تو نے ان میں کیا عمل سر انجام دیا؟ وہ عرض کرے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے یہ کام اس لئے کیا تھا کہ تجھے بڑا سخی کہا جائے سو وہ کہا جا چکا۔ اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8277]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1905
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8278
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل ہم ان شاء اللہ فتح ہونے کی صورت میں خیف بن کنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش کے لوگوں نے کفر پر ایک دوسرے کے ساتھ قسمیں کھائی تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8278]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4284، م: 1314
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8279
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8279]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3375، م: 151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8280
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ، فَتَحَاكَمَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ، فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتْ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا، لَا تَشُقَّهُ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنْ عَلِمْنَا مَا السِّكِّينُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے اچانک کہیں سے ایک بھیڑیا آیا اور ایک لڑکے کو اٹھا کرلے گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ جو بچہ رہ گیا ہے وہ بڑی والی کا ہے وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں بلالیا اور فرمانے لگے کہ چھری لے کر آؤ میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تمہیں دے دیتا ہوں یہ سن کر چھوٹی والی کہنے لگی کہ اللہ آپ رحم فرمائے یہ اسی کا بچہ ہے (کم از کم زندہ تو رہے گا) آپ اسے دو حصوں میں تقسیم نہ کریں چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی والی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ چھری کے لئے عربی میں سکین کا لفظ ہمارے علم میں اسی دن آیا اس سے پہلے ہم اسے مدیہ کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8280]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3427، م: 1720
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8281
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيَمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ بَعْدَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ" مُخَفَّفَةً.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے جس جگہ ختنے کئے اس کا نام قدوم تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8281]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6298، م: 2370
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8282
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بصَدَقَةً، فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، ثم َقَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِق، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، ثُمَّ قَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْرَجَ الصَّدَقَةَ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِي، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، عَلَى سَارِقٍ، وَعَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ، قَالَ: فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ، فَلَعَلَّهَا يَعْنِي أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ، وَأَمَّا السَّارِقُ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَغْنِيَ بِهِ، وَأَمَّا الْغَنِيُّ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات صدقہ دوں گا چنانچہ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور انجانے میں ایک زانیہ عورت کے ہاتھ میں دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک زانیہ عورت کو خیرات ملی وہ شخص کہنے لگا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا چنانچہ دوسری رات کو پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک چور کو خیرات کا مال ملا اس شخص نے کہا کہ میں آج پھر صدقہ دوں گا چنانچہ (تیسری رات کو) وہ صدقہ کا مال لے کر پھر نکلا اور انجانے میں ایک دولت مند کو دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک مال دار کو صدقہ ملا وہ شخص کہنے لگا کہ الہٰی تیرا شکر ہے کہ چور کو زانیہ کو اور دولت مند شخص کو (میرا صدقہ کا مال دلوایا ہاتف کے ذریعہ) اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا تو نے جو چور کو صدقہ دیا تو اس کی وجہ سے شاید وہ چوری سے دست کش ہوجائے اور زانیہ کو جو تو نے صدقہ دیا تو ممکن ہے اس کی وجہ سے وہ زنا کاری چھوڑ دے باقی دولت مند بھی ممکن ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو مال اس کو عطا فرمایا ہے اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8282]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1421، م: 1022
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8283
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَاد ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، فَإِنَّهُ مِنْهُ خُلِقَ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ابن آدم کا سارا جسم کھاجائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان پیدا کیا جائے گا اور اسی سے اس کی ترکیب ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8283]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2955
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8284
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَث رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِي صلى الله عليه وسلم: " مَا ينَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ، فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، فَقَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ، فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا"، ثُمَّ قَالَ" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا کسی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ ابن جمیل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا نہیں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن جمیل سے یہی چیز تو ناراض کرتی ہے کہ وہ پہلے تنگدست تھے پھر اللہ نے انہیں مال و دولت عطا فرمائی (اور اب وہ زکوٰۃ ادا نہیں کر رہے) باقی رہے خالد تو تم ان پر ظلم کرتے ہو کیونکہ انہوں نے تو اپنی زرہیں بھی اللہ کے راستہ میں وقف کر رکھی ہیں اور باقی رہے عباس رضی اللہ عنہ تو وہ میرے ذمے ہیں پھر فرمایا کیا یہ بات تمہارے علم میں نہیں کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مرتبے میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8284]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1468، م: 983
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8285
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8285]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، وأنظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں