مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9192
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ فَيْحَهَا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9192]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 9193
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يُكْلَمُ عَبْدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، يَجِيءُ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9193]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 9194
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ قَالَهُ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ" . وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَبَعْدَ مَا أَسْتَيْقِظُ، وَقَبْلَ مَا آكُلُ، وَبَعْدَ مَا آكُلُ، حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے میں سونے سے پہلے بھی مسواک کرتا ہوں سو کر اٹھنے کے بعد بھی کھانے سے پہلے بھی اور کھانے کے بعد بھی مسواک کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9194]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 9195
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ قَالَ: رَقِيتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، وَعَلَيْهِ سَرَاوِيلُ مِنْ تَحْتِ قَمِيصِهِ، فَنَزَعَ سَرَاوِيلَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ الْوُضُوءَ، وَرِجْلَيْهِ، فَرَفَعَ فِي سَاقَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَرِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ" .
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے قمیض کے نیچے شلوار پہن رکھی تھی انہوں نے شلوار اتاری اور وضو کرنے لگے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو بازؤوں تک اور پاؤں کو پنڈلیوں تک دھویا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے (اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9195]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 136، م: 246
حدیث نمبر: 9196
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی تمنا مت کیا کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس صورت میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9196]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده، خ: 3026 معلقًا، م: 1741، وهذا | إسناد فيه ابن إسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 9197
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ، مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9197]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 233 وهذا إسناد ضعیف، عمر بن إسحاق مجھول
حدیث نمبر: 9198
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ مَألَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ، وَلَا يُؤْلَفُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن الفت کا مقام ہوتا ہے اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہوتی جو کسی سے الفت کرے اور نہ اس سے کوئی الفت کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9198]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 9199
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ : سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تُفْتَحُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا , مَرَّتَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9199]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2565
حدیث نمبر: 9200
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ ," إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ لَكُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الصَّلَاةَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اے لوگو! اللہ نے تم پر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر میں نماز کی چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض قرار دی ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9200]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبیدالله مختلف فيه، وفيه انقطاع بينه وبين أبي هريرة
حدیث نمبر: 9201
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَيَتَحَمَّدَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُنَاسٍ، مَا عَمِلُوا مِنْ خَيْرٍ قَطُّ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا احْتَرَقُوا , فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ، بَعْدَ شَفَاعَةِ مَنْ يُشَفَّعُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر اپنا خصوصی کرم فرمائے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیکی نہ کی ہوگی اور انہیں جہنم سے نکال لے گا اس وقت تک وہ جہنم کی آگ میں جل (کوئلہ بن) چکے ہوں گے اس کے بعد سفارش کرنے والے کی سفارش سے اپنی رحمت کے سبب انہیں جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9201]
الحكم على الحديث:
حسن لغیرہ، وفي ھذا الإسناد صالح، وھو مختلط