مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10641
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ تم لوگ گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا ہو جاؤ گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تم بھی داخل ہو جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10641]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7319، وهذا إسناد ضعيف، جذ إبراهيم لا يعرف
حدیث نمبر: 10642
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا وَهُوَ يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ:" إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الزَّرْعِ , فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى , وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ , قَالَ: فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ , فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ , قَالَ: فَيَقُولُ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ , فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ" , قَالَ: فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا , فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ , وَأَمَّا نَحْنُ , فَلَسْنَا بِأَصْحَابِهِ , قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو کے دوران فرمایا اس وقت ایک دیہاتی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا " کہ ایک جنتی نے اللہ سے درخواست کی اسے کھیتی باڑی کی اجازت دی جائے پروردگار عالم نے اس سے فرمایا کیا تو اپنی خواہشات پوری نہیں کرپارہا؟ اس نے عرض کیا کہ کیوں نہیں لیکن یہ بھی میری خواہش ہے چنانچہ اس نے بیج بویا اور پلک جھپکتے ہی وہ اگ آیا برابر ہوگیا اور کٹ کر پہاڑوں کے برابر اس کے ڈھیر لگ گئے اللہ نے اس سے فرمایا اے ابن آدم یہ لے تیرا پیٹ کوئی چیز نہیں بھر سکتی یہ سن کر وہ دیہاتی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے دیکھیں گے تو وہ کوئی قریشی یا انصاری ہی ہوگا کیونکہ یہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں ہم تو یہ کام نہیں کرتے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10642]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3348
حدیث نمبر: 10643
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا , فَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهَا وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ , فَالْيَوْمُ لَنَا , وَلِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ , لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَلِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10643]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
حدیث نمبر: 10644
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ:" الْيَوْمُ لَنَا".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10644]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10645
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10645]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 854، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10646
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ بَابِ مَسْجِدٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ مَجِيءَ الرَّجُلِ , فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ , فَالْمُهَجِّرُ كَالْمُهْدِي جَزُورًا , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الْبَقَرَةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الشَّاةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الدَّجَاجَةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الْبَيْضَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں چنانچہ جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والاگائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے اور جب امام نکل آتا ہے اور منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10646]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 10647
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي , أُتِيتُ بِقَدَحَيْنِ قَدَحِ لَبَنٍ، وَقَدَحِ خَمْرٍ , فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمَا فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ , فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ , لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر میرے پاس دو برتن لائے گئے جن میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی مجھ سے کہا گیا کہ ان میں جسے چاہیں منتخب کرلیں میں نے دودھ اٹھالیا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ سے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ فطرت صحیحہ کی طرف آپ کی رہنمائی ہوئی اگر آپ شراب اٹھالیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10647]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3394، م: 168، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10648
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ , حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الشُّحُومَ , فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا ثَمَنَهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10648]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وهو هنا موقوف لكن صح مرفوعا، خ: 2224، م: 1583
حدیث نمبر: 10649
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنَاجَشُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَلَا تَنَافَسُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ , وَلَا تَشْتَرِطْ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خریدوفروخت میں ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو دنیا میں ایک دوسرے سے ریس نہ کرو ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ رکھو کوئی آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر اپنا بھاؤ نہ کرے کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطاء فرمائے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10649]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 2563
حدیث نمبر: 10650
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا , وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا , قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ دَلَلْتُكُمْ عَلَى مَا إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ , أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10650]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 54