🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10631
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ , وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ایک خوشی آخرت میں ہوگی جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10631]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10632
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ لَيَحْفِرُونَ السَّدَّ كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ: الَّذِي عَلَيْهِمْ ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ كَأَشَدِّ مَا كَانَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ، وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ إِلَى النَّاسِ، حَفَرُوا، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَيَسْتَثْنِي، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، فَيُنَشِّفُونَ الْمِيَاهَ، وَيَتَحَصَّنَ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ، فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ وَعَلَيْهَا كَهَيْئَةِ الدَّمِ، فَيَقُولُونَ: قَهَرْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ، وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ دَوَابَّ الْأَرْضِ لَتَسْمَنُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاجوج ماجوج روزانہ سد سکندری میں سوراخ کرتے ہیں اور جب اتنا سوراخ کرلیتے ہیں کہ جس سے سورج کی شعاعیں دیکھ سکیں تو ان کا سردار کہتا ہے کہ اب واپس لوٹ چلو کل تم اسے گرا دوگے لیکن وہ اگلے دن واپس آتے ہیں تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک وہ اپنی مدت کو نہیں پہنچ جاتے اور جب اللہ کا ارادہ ہوگا کہ اب انہیں لوگوں پر مسلط کردیں تو وہ اس میں سوراخ کریں گے اور جب اتنا سوراخ کرچکیں گے کہ جس سے سورج کی شعاعیں دیکھ سکیں تو ان کا سردار کہے گا کہ اب واپس چلو کل تم ان شاء اللہ اسے گرادوگے چنانچہ جب وہ اگلے دن واپس آئیں گے تو وہ دیوار اسی حالت پر ہوگی جس پر وہ اسے چھوڑ کر گئے ہوں گے اور وہ اسے گرا کر لوگوں پر چڑھ دوڑیں گے۔ وہ پانی کے چشموں سے پانی چوس کر ختم کردیں گے لوگ ان کے خوف سے اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے جو ان پر خون آلود کرکے لوٹا دئیے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی غالب آگئے اور آسمان والوں پر بھی چھاگئے اس کے بعد اللہ ان کی گردنوں میں گدی کے پاس ایک کیڑا مسلط کردیں گے جو ان سب کی موت کا سبب بن جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ان کے گوشت اور خون سے زمین کے کیڑے مکوڑے اور جانور خوب سیراب ہو کر انتہائی صحت مند ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10632]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفي الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10633
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ" , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ , وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10633]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10634
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10634]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10635
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ , فَلَا يَرْفُثْ , وَلَا يَجْهَلْ , وَلَا يُؤْذِي أَحَدًا , فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ أَوْ آذَاهُ , فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10635]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10636
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ , فَيُدْخِلُهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ" , قِيلَ: كَيْفَ يَكُونُ ذَاكَ؟ قَالَ:" يَكُونُ أَحَدُهُمَا كَافِرًا , فَيَقْتُلُ الْآخَرَ , ثُمَّ يُسْلِمُ فَيَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کردیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کس طرح؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی تو شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگیا پھر اللہ نے دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اسے بھی اسلام کی طرف ہدایت دے دی اور وہ بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرکے شہید ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10636]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2826، م: 1890
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10637
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا زِيَادٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ , وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ , وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي , وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10637]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7137، م: 1835
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10638
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ قَتَادَةَ , وَعَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , الْمَعْنَى , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمْطِرَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ , وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: فَرَاشٌ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُهُ، فَقَالَ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ، قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ , أَوْ قَالَ: مِنْ فَضْلِكَ" , قَالَ: عَبْدُ الصَّمَدِ: قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ فَضْلِكَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب (علیہ السلام) پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10638]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 279
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10639
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ، قَالُوا: تُرَاهَا جُدَرِيَّ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجو رہے اور زہر کی شفا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10639]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو منقطع بين شهر و بين أبى هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10640
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج دھواں چھاجانا دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10640]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2947
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں