مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10621
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , قََالَ عَوْفٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ , قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ , فَنَزَعَتْ خُفَّهَا , فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا , فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ , فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک فاحشہ عورت نے سخت گرمی کے ایک دن میں ایک کتے کو ایک کنوئیں کے چکر کاٹتے ہوئے دیکھا جس کی زبان پیاس کی وجہ سے لٹک چکی تھی اس نے موزے کو اتار کر اس میں پانی بھر کر اسے پلادیا اور اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10621]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3351، م: 2245
حدیث نمبر: 10622
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ , إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ , وَقَالَ: يُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ , قَالَ: فَيَقُولُونَ: حَتَّى يَجِيءَ أَبَوَانَا" , قَالَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَيَقُولُونَ: مِثْلَ ذَلِكَ , فَيُقَالُ لَهُمْ:" ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَبَوَاكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مسلمان میاں بیوی جن کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں اللہ ان بچوں اور ان کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا ابتداء ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہیں گے کہ جب تک ہمارے والدین نہیں آتے ہم جنت میں نہیں جائیں گے یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوں گے بالآخر ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10622]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632
حدیث نمبر: 10623
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ , وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ , وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهَى عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ , وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ تُفْضِي بِفَرْجِكَ إِلَى السَّمَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی نماز، دو قسم کی خریدوفروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز سے منع فرمایا ہے اور لباس یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10623]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 584، 2145، م:1511
حدیث نمبر: 10624
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قََالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ , أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10624]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6233، م: 2160
حدیث نمبر: 10625
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حُبَيْبٌ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ" , وَقَالَ بِبَغْدَادَ:" وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ، وَالصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ" , وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ: وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10625]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6231، م: 2160، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10626
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , قََالَ: حَدَّثَ بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّهَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا مِنَ السَّامِ" , قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: الْمَوْتُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10626]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10627
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ , أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُكْنَى بِكُنْيَتِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10627]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن، وعمه
حدیث نمبر: 10628
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ , فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10628]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10629
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ , فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو جب تک کھانا مکمل نہ کرلے اسے نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10629]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 10630
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ , وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10630]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح