🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
370. حَدِیث الاَسوَدِ بنِ هِلَال عَن رَجل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ؟، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابِي وُزِنُوا، فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ، فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ، فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ، فَنَقَصَ صَاحِبُنَا وَهُوَ صَالِحٌ".
اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جو سیدنا عمر کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا سیدنا عثمان غنی اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک خلیفہ نہیں بن جاتے، ہم اس سے پوچھتے کہ تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی؟ تو وہ جواب دیتا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آج رت میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے تین صحابہ کا وزن کیا گیا ہے، چنانچہ سیدنا ابوبکر کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا جھک گیا، پھر سیدنا عمر کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا، پھر سیدنا عثمان کا وزن کیا گیا تو ہمارے ساتھی کا وزن کم رہا اور وہ نیک آدمی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16604]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
371. حَدِیث شَیخ اَدرَكَ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ: قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ، قَالَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ"، قَالَ: وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
ایک شیخ سے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو شرک سے بری ہو گیا، پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی برکت سے اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16605]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع أبى النضر منه بعد اختلاطه، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16606
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ فُلَانِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَات، فَصَلُّوا عَلَيْهِ".
فلاں بن جاریہ انصاری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16606]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حمران بن أعين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
372. حَدِیث بِنتِ كَردَمَةَ اَبِیهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ ، عَنِ ابْنَةِ كَرْدَمَةَ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى وَثَنٍ، فَلَا، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا، أَفَأَمْشِي عَنْهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ".
سیدنا کر دم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منت کا حکم پوچھا: جو تین اونٹ ذبح کرنے کے حوالے سے انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ منت اگر کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی تو پھر نہیں اور اگر اللہ کے لئے مانی تو اسے پورا کر و، پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! اس بچی کی ماں پر پیدل چلنا واجب ہے، کیا میں اس کی طرف سے چل سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16607]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شيعب لم يسمع من ابنة كردمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
373. حَدِیث رَجل مقعَد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَوْلًى لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نِمْرَانَ ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا شوال فَسَأَلْتُهُ، قَالَ: مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ، فَقَالَ:" قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا، قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ"، فَأُقْعِدَ.
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات ایک اپاہج آدمی سے ہوئی میں نے اس کی وجہ اس سے پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گزر گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز توڑ دی، اللہ اس کے پاؤں توڑ دے، اس وقت سے میں اپاہج ہو گیا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16608]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة مولي يزيد، ومولاه يزيد بن نمران مستور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
374. حَدِیث رَجل مِنَ الاَنصَارِ صَاحِبِ بدنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ ، صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ، قَالَ:" رَجَعْتُ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا؟، قَالَ:" انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا، أَوْ عَلَى جَنْبِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ".
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ جو اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہیں بھیجا، میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ!! اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہو جائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کر لینا، پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا اور اس میں سے نہ تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16609]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
375. حَدِیث ابنَةِ اَبِی الحَكَمِ الغِفَارِیِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى يَكُونَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قِيدُ ذِرَاعٍ، فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ".
بنت ابوحکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض اوقات انسان جنت کے اتنا قریب پہنچ جاتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن پھر وہ کوئی ایسی بات کہہ بیٹھتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنت سے اتنا دور چلا جاتا ہے مثلا مکہ مکر مہ کا صنعاء سے بھی زیادہ دور کا فاصلہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16610]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
376. حَدِیث امرَاَة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّها قَالَتْ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ كُرَاعُ شَاةٍ مُحْرَقًا".
ایک خاتون صحابیہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے مومن عورتو! تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی کسی چیز کو خواہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو، حقیر نہ سمجھے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16611]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن معاذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
377. حَدِیث رَجل اَدرَكَ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ، فَإِذَا طُفْتُمْ، فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ"، وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ بَكْرٍ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طواف بھی نماز ہی کی طرح ہوتا ہے، اس لئے جب تم طواف کیا کر و تو گفتگو کم کیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16612]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ولا يضر توقف محمد بن بكر عن رفعه، فقد رفعه أئمة ثقات، والمبهم فيه هو: ابن عباس، وعلى تقدير أن يكون غيره فلا يضره إبهام الصحابة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
378. حَدِیث رَجل مِن بَنِی یَربوع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ:" يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بن يَرْبُوع الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
بنویربوع کے ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو لوگوں سے گفتگو کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا کر و، ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! یہ بنوثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے فلاں آدمی کو قتل کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16613]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں