🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
292. حَدِیث قَیسِ بنِ اَبِی غَرَزَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16139]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16140
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ مَوْلَى صُخَيْرٍ عَنْ بَعْضِ ,أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ بَيْعٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَعَايِشُنَا، قَالَ: فَقَالَ:" لَا خِلَابَ إِذًا" وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16140]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم مولي صخير لم يدرك أحدا من الصحابة ، وفيه لين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
293. حَدِیث اَبِی سَرِیحَةَ الغِفَارِیِّ حذَیفَةَ بنِ اَسِید رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ:" مَا تَذْكُرُونَ؟"، قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ الدُّخَانُ، وَالدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَقَطَ كَلِمَةٌ.
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قیامت کا تذکر ہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تم مذا کر ات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا: قیامت کا تذکر ہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا سیدنا عیسیٰ کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہو گی جو۔۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے۔ کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کر لے گی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16141]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16142
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَمَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" أَوْ خمس وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَاذَا؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَيَكْتُبَانِ، فَيَقُولَانِ: مَاذَا؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَكْتُبَانِ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ، وَأَثَرُهُ، وَمُصِيبَتُهُ، وَرِزْقُهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ، فَلَا يُزَادُ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نطفہ جب رحم مادر میں استقراء پکڑ لیتا ہے تو چالیس دن گزرنے کے بعد ایک فرشتہ آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہو گا یا سعید، مذکر ہو گا یا مونث اللہ تعالیٰ اسے بتا دیتے ہیں اور وہ لکھ لیتا ہے پھر اس کا عمل، اثر، مصیبت اور رزق بھی لکھ دیا جاتا ہے پھر اس صحیفے کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16142]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2644
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ. قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا تَذْكُرُونَ؟"، قَالُوا: السَّاعَةَ، قَالَ:" إِنَّ السَّاعَةَ لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَالدُّخَانُ، وَالدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ". فَقَالَ شُعْبَةُ: سَمِعْتُهُ وَأَحْسِبُهُ، قَالَ:" تَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ نَزَلُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا" قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ:" نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ"، وَقَالَ الْآخَرُ:" رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ".
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکر ہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذآ کرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا: قیامت کا تذکر ہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا سیدنا عیسیٰ کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہو گی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کر دے گی لوگ جہاں پڑاؤ کر یں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کر ے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کر یں گے وہ یہیں قیلولہ کر ے گی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16143]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانُ، وَالدَّابَّةُ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَالدَّجَّالِ، وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ، تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا".
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکر ہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذآ کرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا: قیامت کا تذکر ہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا سیدنا عیسیٰ کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہو گی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کر دے گی لوگ جہاں پڑاؤ کر یں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کر ے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کر یں گے وہ یہیں قیلولہ کر ے گی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16144]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ بِمَوْتِ النَّجَاشِيِّ، قَالَ: فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ".
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا: اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16145]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ يَوْمًا، فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ". قَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" صُحْمَةُ النَّجَاشِيُّ"، وَقَالَ أَزْهَرُ:" صَحْمَةُ"، وَقَالَ أَزْهَرُ: أَبِي الطُّفَيْلِ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ.
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصحمہ نجاشی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16146]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ"، قَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" صُحْمَةُ النَّجَاشِيُّ"، فَقَامُوا، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ.
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصحمہ نجاشی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16147]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
294. حَدِیث عقبَةَ بنِ الحَارِثِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا. وَهِيَ كَافِرَةٌ. فَأَعْرَضَ، عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، فَقَالَ لِي:" كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا؟! دَعْهَا عَنْكَ".
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اوعرض کیا: میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا میں سامنے کے رخ سے آیا اور پھر یہی کہا وہ جھوٹ بول رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ اس سیاہ فام کا کہنا ہے اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16148]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5104
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں