🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1890
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عُمَرَ، نَحْوَهُ، وَقَالَ هِشَامٌ: عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، سَمِعْتُ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا کرتے تھے اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں مقدر کر دے۔ ابن زریع نے روح بن قاسم سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنی والدہ سے، انہوں نے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا تھا، ہشام نے بیان کیا، ان سے زید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا پھر یہی حدیث روایت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥حفصة بنت عمر العدوية
Newحفصة بنت عمر العدوية ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥أسلم العدوي، أبو خالد، أبو زيد
Newأسلم العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية
ثقة مخضرم
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أسلم العدوي
ثقة
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد
Newهشام بن سعد القرشي ← زيد بن أسلم القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب العدوي ← هشام بن سعد القرشي
صحابي
👤←👥حفصة بنت عمر العدوية
Newحفصة بنت عمر العدوية ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥أسلم العدوي، أبو خالد، أبو زيد
Newأسلم العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية
ثقة مخضرم
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أسلم العدوي
ثقة
👤←👥روح بن القاسم التميمي، أبو غياث
Newروح بن القاسم التميمي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← روح بن القاسم التميمي
ثقة ثبت
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب العدوي ← يزيد بن زريع العيشي
صحابي
👤←👥أسلم العدوي، أبو خالد، أبو زيد
Newأسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة مخضرم
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أسلم العدوي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي هلال الليثي، أبو العلاء
Newسعيد بن أبي هلال الليثي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن يزيد الجمحي، أبو عبد الرحيم
Newخالد بن يزيد الجمحي ← سعيد بن أبي هلال الليثي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← خالد بن يزيد الجمحي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1890
اللهم ارزقني شهادة في سبيلك واجعل موتي في بلد رسولك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1890 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1890
حدیث حاشیہ:
اللہ پاک نے حضرت عمر فاروق ؓ کی ہر دو دعاؤں کو قبول فرمایا۔
26 ذی الحجہ23ھ بدھ کا دن تھا کہ فجر میں آپ امامت کر رہے تھے ظالم ابو لولو مجوسی نے آپ کو زہر آلود خنجر مارا، زخم کاری تھا، چند دن بعد آپ کا انتقال ہو گیا اور یکم محرم24ھ بروز ہفتہ تدفین عمل میں آئی، اللہ پاک نے آپ کی دوسری دعا بھی اس شان کے ساتھ قبول فرمائی کہ عین حجرہ نبوی پہلوئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں دفن کئے گئے۔
(وذلك فضل اللہ یؤتیه من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1890]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1890
حدیث حاشیہ:
(1)
اس دعا کا پس منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عمر ؓ شہید کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ خواب حضرت عمر ؓ سے بیان کیا تو آپ نے حسرت بھرے لہجے میں کہا:
مجھے شہادت فی سبیل اللہ کیونکر نصیب ہو سکتی ہے جبکہ میں جزیرۃ العرب کے درمیان رہائش پذیر ہوں؟ میں خود جہاد نہیں کرتا اور اللہ کے بندے ہر وقت میرے آس پاس رہتے ہیں۔
پھر خود ہی کہنے لگے:
مجھے شہادت کیوں نہیں نصیب ہو سکتی؟ اگر اللہ نے چاہا تو مجھے انہی حالات میں وہ شہادت سے نوازے گا۔
اس کے بعد آپ نے وہ دعا کی جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔
آپ کی یہ دعا سن کر آپ کی صاجزادی ام المؤمنین حضرت حفصہ ؓ نے کہا:
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ فی سبیل اللہ شہید ہوں اور وہ بھی مدینے میں؟ آپ نے فرمایا:
اللہ چاہے گا تو یہ دونوں باتیں ہو جائیں گی۔
(2)
روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ کی اس عجیب و غریب دعا سے لوگوں کو تعجب ہوتا تھا اور کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ دونوں باتیں کس طرح ہو سکتی ہیں؟ لیکن بدبخت ابو لؤلؤ نے مسجد نبوی کے محراب میں آپ کو زخمی کیا تو لوگوں کو پتہ چلا کہ دعا کی قبولیت اس طرح مقدر تھی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کی دعا کو حرف بہ حرف قبولیت سے نوازا، چنانچہ مدینہ منورہ میں 26 ذوالحجہ 23ھ بروز بدھ نماز فجر پڑھاتے ہوئے شہید ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجرۂ مبارکہ میں انہیں دفن کیا گیا۔
(فتح الباري: 131/4)
اے اللہ! ہمیں بھی اپنے محبوب کے شہر مدینہ طیبہ میں شہادت کی موت نصیب فرما۔
وما ذٰلك علی الله بعزيز وهو علی كل شئي قدير
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1890]

Sahih Bukhari Hadith 1890 in Urdu