🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب بيع الفضة بالفضة:
باب: چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2177
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← أبو سعيد الخدري
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2176
الذهب بالذهب مثلا بمثل الورق بالورق مثلا بمثل
صحيح البخاري
2177
لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل لا تشفوا بعضها على بعض لا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل لا تشفوا بعضها على بعض لا تبيعوا منها غائبا بناجز
صحيح مسلم
4054
لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل لا تشفوا بعضها على بعض لا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل لا تشفوا بعضها على بعض لا تبيعوا منها غائبا بناجز
صحيح مسلم
4057
لا تبيعوا الذهب بالذهب لا الورق بالورق إلا وزنا بوزن مثلا بمثل سواء بسواء
صحيح مسلم
4055
لا تبيعوا الذهب بالذهب لا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل لا تشفوا بعضه على بعض لا تبيعوا شيئا غائبا منه بناجز إلا يدا بيد
صحيح مسلم
4064
الذهب بالذهب الفضة بالفضة البر بالبر الشعير بالشعير التمر بالتمر الملح بالملح مثلا بمثل يدا بيد من زاد فقد أربى الآخذ والمعطي فيه سواء
جامع الترمذي
1241
لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل الفضة بالفضة إلا مثلا بمثل لا يشف بعضه على بعض لا تبيعوا منه غائبا بناجز
سنن النسائى الصغرى
4569
الذهب بالذهب الورق بالورق البر بالبر الشعير بالشعير التمر بالتمر الملح بالملح سواء بسواء من زاد على ذلك فقد أربى والآخذ والمعطي فيه سواء
سنن النسائى الصغرى
4574
لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل لا تشفوا بعضها على بعض لا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل لا تبيعوا منها شيئا غائبا بناجز
سنن النسائى الصغرى
4575
النهي عن الذهب بالذهب الورق بالورق إلا سواء بسواء مثلا بمثل لا تبيعوا غائبا بناجز لا تشفوا أحدهما على الآخر
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
510
لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض
بلوغ المرام
697
لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا منها غائبا بناجز
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2177 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2177
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں حضرت امام شافعی ؒ کی حجت ہے کہ اگرایک شخص کے دوسرے پر درہم قرض ہوں اور اس کے اس پر دینار قرض ہوں، تو ان کی بیع جائز نہیں کیوں کہ یہ بيعِ الكَالِي بالكالِي ہے۔
یعنی ادھار کو ادھار کے بدل بیچنا۔
اور ایک حدیث میں صراحتاً اس کی ممانعت وارد ہے اور اصحاب سننن نے ابن عمر ؓ سے نکالا کہ میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا تو دیناروں کے بدل بیچتا اور درہم لیتا، اور درہم کے بدل بیچتا تو دینار لے لیتا۔
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کو پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
بشرطیکہ اسی دن کے نرخ سے لے۔
اور ایک دوسرے سے بغیر لیے جدا نہ ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2177]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2177
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
مثل ذلك سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے حضرت عمر ؓ سے مروی حدیث کی طرح حدیث بیان کی جیسا کہ اسماعیلی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
اس میں صراحت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں وہی مضمون تھا جو حضرت عمر ؓ سے مروی حدیث میں ہے، نیز یہ واقعہ حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ پیش آیا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ کا ایک واقعہ حضرت ابن عباس ؓ کے ساتھ بھی ہے جو آئندہ (حدیث: 2178، 2179)
میں بیان ہوگا۔
(2)
واضح رہے کہ ایک شخص نے کسی سے درہم لینے ہیں اور کسی اور نے اس سے دینار لینے ہیں تو یہ دونوں آپس میں درہم ودینار کی خریدوفروخت نہیں کرسکتے کیونکہ جب ایک طرف سے ادھار اور دوسری طرف سے نقد کی خریدوفروخت جائز نہیں تو دونوں طرف سے ادھار کی بیع کیسے درست ہوسکتی ہے۔
(فتح الباري: 481/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2177]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 510
کمی بیشی کے ساتھ ادھار کے بدلے نقد بیچنا جائز نہیں ہے
«. . . 259- مالك عن نافع عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها شيئا غائبا بناجز. . . .»
. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے میں نہ بیچو مگر برابر برابر، اس میں بعض کو بعض پر زیادتی و اضافہ نہ دو اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں نہ بیچو مگر برابر برابر، اس میں بعض پر زیادتی و اضافہ نہ دو اور ان میں سے کوئی چیز بھی ادھار کے بدلے نقد نہ بیچو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 510]
تخریج الحدیث: [و اخرجه البخاري 2177، و مسلم 1584، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ سونے چاندی کے لین دین میں اضافہ حرام ہے، چاہے نقد ہو یا ادھار۔
➋ اگر جنس علیحدہ ہو تو کرنسی کا تبادلہ جائز ہے مثلاً ریال دے کر روپے لینا یا روپے دے کر ریال وغیرہ لینا۔
➌ محمد طاہر القادری (بریلوی) نے أحمد رضا خان بریلوی سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص دس روپے کا نوٹ دوسرے شخص کو سال بھر کے وعدے پر بارہ (12) روپے میں بیچ دے تو یہ جائز ہے۔ [بلا سُود بنکاری/عبوری خاکہ طبع سوم جولائی 1987ء ص100]
بریلوی صاحب کا اس عمل کو جائز قرار دینا سراسر غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ صریح سود ہے۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «كل قرض جر منفعته فهو وجه من وجوه الربا» ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، سود کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 5/350 وسنده صحيح وأخطأ من ضعفه]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 259]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4574
سونا کے بدلے سونا بیچنے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4574]
اردو حاشہ:
سودا نہ کرو یعنی ادھار سودا جائز نہیں کیونکہ سونے چاندی کا بھاؤ اور باہمی تناسب بدلتا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں جھگڑے کا امکان ہے۔ شریعت تنازع کو پسند نہیں کرتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4574]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1241
صرف کا بیان۔
نافع کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری رضی الله عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے میرے دونوں کانوں نے آپ سے سنا): سونے کو سونے سے برابر برابر ہی بیچو اور چاندی کو چاندی سے برابر برابر ہی بیچو۔ ایک کو دوسرے سے کم و بیش نہ کیا جائے اور غیر موجود کو موجود سے نہ بیچو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1241]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
سونے چاندی کوبعوض سونے چاندی نقداً بیچنا بیع صرف ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1241]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4054
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا، سونے کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر، برابر اور ایک دوسرے سے زائد نہ کرو، اور چاندی، چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر، اور اسے ایک دوسرے پر زائد نہ کرو، اور موجود کو غیر موجود کے عوض فروخت نہ کرو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4054]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ربا:
کا معنی اضافہ و زیادتی یا بڑھوتری ہے،
اور علامہ ابوبکر جصاص نے اس کی تعریف یوں کی ہے،
(القرض المشروط فيه الاجل و زيادة مال علي المستقرض)
یعنی ادھار کی میعاد پر مقروض سے اضافہ وصول کرنا،
اور ایک مرفوع اور موقوف حدیث ہے،
(كل قرض جر منفعة فهو ربا)
قرض پر نفع وصول کرنا سود ہے۔
لا تشفوا:
یہ شف سے ماخوذ ہے،
جس کا معنی،
زیادتی اور کمی دونوں آتے ہیں،
تو معنی ہوا،
ایک دوسرے سے کم یا زیادہ نہ کرو برابر،
برابر ہوں۔
فوائد ومسائل:
ربا کی دو قسمیں ہیں (1)
ربا النسيئة:
جس کی حرمت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے،
اس لیے اس کو ربا القرآن بھی کہتے ہیں،
جس میں ادھار،
رقم دے کر،
اس پر نفع یا اضافہ وصول کیا جاتا ہے۔
(2)
ربا الفضل:
جس کی حرمت احادیث میں بیان کی گئی ہے،
اس لیے اسے ربا الحديث بھی کہتے ہیں،
جس میں ایک جنس کا باہمی تبادلہ کمی و بیشی کے ساتھ کیا جاتا ہے،
مثلا ایک طرف چار کلو گندم ہے اور دوسری طرف 6 کلو گندم ہے،
یا ایک طرف دو تولہ سونا ہے اور دوسری طرف تین تولہ یا ڈھائی تولہ سونا ہے تو یہ جائز نہیں ہے اور ایک ملک کی کرنسی کا حکم بھی سونے،
چاندی والا ہے،
تبادلہ میں کمی و بیشی جائز نہیں ہے،
اس طرح تبادلہ کا دست بدست نقد بنقد ہونا ضروری ہے،
موجود (ناجز)
کا غائب (غیر موجود)
سے تبادلہ جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4054]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4057
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا، سونے کے عوض اور چاندی، چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر دونوں کا وزن اور ناپ برابر ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4057]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سواء بسواء:
مثلا بمثل یہ وزنا بوزن کی تاکید اور مبالغہ کے لیے ہیں،
اور سونا اور چاندی میں تفاضل کمی و بیشی کی علت یا سبب ان کا موزوں اور ہم جنس ہوتا ہے،
یہ امام ابو حنیفہ اور امام احمد،
اسحاق بن راھویہ وغیرہم کا قول ہے،
اور امام شافعی کے نزدیک،
ان کا قیمت اور ہم جنس ہونا ہے،
امام احمد کا ایک قول یہی ہے،
اور امام مالک کا نظریہ بھی یہی ہے،
اور صحیح نظریہ یہی ہے،
اس لیے ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ،
دست بدست اور برابر،
برابر ہو گا،
اور اگر دوسرے ملک کی کرنسی کا تبادلہ ہو،
تو پھر جنس کے بدلنے کی بنا پر کمی و بیشی جائز ہو گی لیکن تبادلہ نقد بنقد ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4057]