🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب فضل الصوم فى سبيل الله:
باب: جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2840
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَسُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ، وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح نے خبر دی ‘ ان دونوں حضرات نے نعمان بن ابی عیاش سے سنا ‘ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ‘ آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ فرماتے تھے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) ایک دن بھی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت کی دوری تک دور کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥النعمان بن أبي عياش الزرقي، أبو سلمة
Newالنعمان بن أبي عياش الزرقي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← النعمان بن أبي عياش الزرقي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن إبراهيم البخاري، أبو إبراهيم
Newإسحاق بن إبراهيم البخاري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2840
من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا
صحيح مسلم
2713
من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا
صحيح مسلم
2711
ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا
جامع الترمذي
1623
لا يصوم عبد يوما في سبيل الله إلا باعد ذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2255
من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2254
من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم حر جهنم عن وجهه سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2253
لا يصوم عبد يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2252
من صام يوما في سبيل الله تبارك و باعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2251
من صام يوما في سبيل الله باعده الله عن النار سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2250
ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا بعد الله بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2249
من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه من جهنم سبعين عاما
سنن النسائى الصغرى
2247
من صام يوما في سبيل الله باعد الله بينه وبين النار بذلك اليوم سبعين خريفا
سنن ابن ماجه
1717
من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا
بلوغ المرام
554
‏‏‏‏ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم عن وجهه النار سبعين خريفا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2840 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2840
حدیث حاشیہ:
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒیہ بتلانا چاہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں لفظ في سبیل اللہ زیادہ تر جہاد ہی کے لئے بولا گیا ہے۔
حدیث مذکور میں بھی جہاد کرتے ہوئے روزہ رکھنا مراد ہے جس سے نفل روزہ مراد ہے اور اسی کی یہ فضیلت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرد مجاہد کا روزہ اور مرد مجاہد کی نماز بہت اونچا مقام رکھتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2840]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2840
حدیث حاشیہ:

اگر روزہ رکھنے سے کسی قسم کی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسے مجاہدین کے حق میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
حضرت ابوطلحہ ؓ کا یہی معمول تھا۔
لیکن اگرروزہ رکھنے کی عادت ہے اور اس سے کسی قسم کی کمزوری کا خطرہ نہیں تو جہادکرتے وقت روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے کیونکہ اس میں دوعبارتیں جمع ہوجاتی ہیں۔

حدیث میں ستر سال کاذکر تحدید کے لیے نہیں بلکہ مبالغے کے لیے ہے۔
اس سے کثرت مراد ہے،یعنی وہ شخص دوزخ کی آگ سے لامحدود مسافت دور ہوجائےگا۔
یہی وجہ ہے کہ سنن نسائی کی ایک روایت میں سوسال کی مسافت کا ذکر ہے۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2256)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2840]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2713
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کردے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2713]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے۔
اگرجہاد کے لیے نکلا ہوا مجاہد جب کہ دشمن کے مقابلہ میں میدان میں موجود ہو لیکن جنگ ہونہیں رہی یا اس قدر ہمت وطاقت کا مالک ہو کہ روزہ سے جہادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہیں دکھا رہا تو اس کا چہرہ یعنی ذات ایک روزہ کے نتیجہ میں اس قدر طویل مسافت آتش جہنم سے دور ہو جائے گا گویا جہاد کی برکت سے اجر میں اضافہ ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2713]