صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
31. باب فضل الصيام في سبيل الله لمن يطيقه بلا ضرر ولا تفويت حق:
باب: جو اللہ کے راستے میں بغیر کسی تکلیف کے روزہ رکھ سکتا ہو اس کے روزے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1153 ترقیم شاملہ: -- 2713
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ".
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو (جہنم کی) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2713]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کردے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2713]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1153
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2840
| من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا |
صحيح مسلم |
2713
| من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا |
صحيح مسلم |
2711
| ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا |
جامع الترمذي |
1623
| لا يصوم عبد يوما في سبيل الله إلا باعد ذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا |
سنن النسائى الصغرى |
2255
| من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا |
سنن النسائى الصغرى |
2254
| من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم حر جهنم عن وجهه سبعين خريفا |
سنن النسائى الصغرى |
2253
| لا يصوم عبد يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا |
سنن النسائى الصغرى |
2252
| من صام يوما في سبيل الله تبارك و باعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا |
سنن النسائى الصغرى |
2251
| من صام يوما في سبيل الله باعده الله عن النار سبعين خريفا |
سنن النسائى الصغرى |
2250
| ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا بعد الله بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا |
سنن النسائى الصغرى |
2249
| من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه من جهنم سبعين عاما |
سنن النسائى الصغرى |
2247
| من صام يوما في سبيل الله باعد الله بينه وبين النار بذلك اليوم سبعين خريفا |
سنن ابن ماجه |
1717
| من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا |
بلوغ المرام |
554
| ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم عن وجهه النار سبعين خريفا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2713 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2713
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے۔
اگرجہاد کے لیے نکلا ہوا مجاہد جب کہ دشمن کے مقابلہ میں میدان میں موجود ہو لیکن جنگ ہونہیں رہی یا اس قدر ہمت وطاقت کا مالک ہو کہ روزہ سے جہادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہیں دکھا رہا تو اس کا چہرہ یعنی ذات ایک روزہ کے نتیجہ میں اس قدر طویل مسافت آتش جہنم سے دور ہو جائے گا گویا جہاد کی برکت سے اجر میں اضافہ ہو گا۔
فوائد ومسائل:
فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے۔
اگرجہاد کے لیے نکلا ہوا مجاہد جب کہ دشمن کے مقابلہ میں میدان میں موجود ہو لیکن جنگ ہونہیں رہی یا اس قدر ہمت وطاقت کا مالک ہو کہ روزہ سے جہادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہیں دکھا رہا تو اس کا چہرہ یعنی ذات ایک روزہ کے نتیجہ میں اس قدر طویل مسافت آتش جہنم سے دور ہو جائے گا گویا جہاد کی برکت سے اجر میں اضافہ ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2713]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2840
2840. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو ستر سال کی مسافت کے برابر دوزخ کی آگ سے دور کردے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2840]
حدیث حاشیہ:
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒیہ بتلانا چاہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں لفظ في سبیل اللہ زیادہ تر جہاد ہی کے لئے بولا گیا ہے۔
حدیث مذکور میں بھی جہاد کرتے ہوئے روزہ رکھنا مراد ہے جس سے نفل روزہ مراد ہے اور اسی کی یہ فضیلت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرد مجاہد کا روزہ اور مرد مجاہد کی نماز بہت اونچا مقام رکھتی ہے۔
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒیہ بتلانا چاہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں لفظ في سبیل اللہ زیادہ تر جہاد ہی کے لئے بولا گیا ہے۔
حدیث مذکور میں بھی جہاد کرتے ہوئے روزہ رکھنا مراد ہے جس سے نفل روزہ مراد ہے اور اسی کی یہ فضیلت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرد مجاہد کا روزہ اور مرد مجاہد کی نماز بہت اونچا مقام رکھتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2840]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2840
2840. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو ستر سال کی مسافت کے برابر دوزخ کی آگ سے دور کردے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2840]
حدیث حاشیہ:
1۔
اگر روزہ رکھنے سے کسی قسم کی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسے مجاہدین کے حق میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
حضرت ابوطلحہ ؓ کا یہی معمول تھا۔
لیکن اگرروزہ رکھنے کی عادت ہے اور اس سے کسی قسم کی کمزوری کا خطرہ نہیں تو جہادکرتے وقت روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے کیونکہ اس میں دوعبارتیں جمع ہوجاتی ہیں۔
2۔
حدیث میں ستر سال کاذکر تحدید کے لیے نہیں بلکہ مبالغے کے لیے ہے۔
اس سے کثرت مراد ہے،یعنی وہ شخص دوزخ کی آگ سے لامحدود مسافت دور ہوجائےگا۔
یہی وجہ ہے کہ سنن نسائی کی ایک روایت میں سوسال کی مسافت کا ذکر ہے۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2256)
1۔
اگر روزہ رکھنے سے کسی قسم کی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسے مجاہدین کے حق میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
حضرت ابوطلحہ ؓ کا یہی معمول تھا۔
لیکن اگرروزہ رکھنے کی عادت ہے اور اس سے کسی قسم کی کمزوری کا خطرہ نہیں تو جہادکرتے وقت روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے کیونکہ اس میں دوعبارتیں جمع ہوجاتی ہیں۔
2۔
حدیث میں ستر سال کاذکر تحدید کے لیے نہیں بلکہ مبالغے کے لیے ہے۔
اس سے کثرت مراد ہے،یعنی وہ شخص دوزخ کی آگ سے لامحدود مسافت دور ہوجائےگا۔
یہی وجہ ہے کہ سنن نسائی کی ایک روایت میں سوسال کی مسافت کا ذکر ہے۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2256)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2840]
النعمان بن أبي عياش الزرقي ← أبو سعيد الخدري