🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب الخيل معقود فى نواصيها الخير إلى يوم القيامة:
باب: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2851
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں برکت بندھی ہوئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2851]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥يزيد بن حميد الضبعي، أبو حماد، أبو التياح
Newيزيد بن حميد الضبعي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يزيد بن حميد الضبعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2851
البركة في نواصي الخيل
صحيح البخاري
3645
الخيل معقود في نواصيها الخير
صحيح مسلم
4854
البركة في نواصي الخيل
سنن النسائى الصغرى
3601
البركة في نواصي الخيل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2851 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2851
حدیث حاشیہ:
الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جوجہاد کے لیے رکھے گئے ہوں۔
اس قسم کے گھوڑوں میں واقعی بڑی خیروبرکت ہے۔
دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ان گھوڑوں کا اہتمام کرنے والے کو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا اورقیامت کےدن تو اس کا گوبر اور پیشاب تک نامہ اعمال میں رکھ دے گا۔
اور ان کا وزن کرکے نیکیاں دی جائیں گی۔
ویسے بھی گھوڑا سواری کے جانوروں میں ایک نمایاں حیثیت کا حامل ہے اور وفا شعاری کے اعتبارسے انسانوں کے لیے ایک محبوب جانور ہے،خاص طور پر میدان جنگ میں گھوڑے کی سواری اہمیت رکھتی ہے۔
آج کل جدید دور میں جبکہ بہترین سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں اس کے باجود گھوڑے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
دنیا کی کوئی ایسی حکومت نہیں جس میں گھڑ سوار فوج کا دستہ نہ ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2851]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3601
گھوڑے کی برکت کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت (رکھ دی گئی) ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3601]
اردو حاشہ:
ان گھوڑوں سے مراد جہاں میں استعمال ہونے والے گھوڑے ہیں۔ برکت کی تفصیل کے لیے دیکھے‘ حدیث: 3591۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3601]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3645
3645. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: خیروبرکت توقیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانی سے باندھ دی گئی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3645]
حدیث حاشیہ:
مراد مال غنیمت ہے جو گھوڑے سوار مجاہدین کو فتح کے نتیجہ میں حاصل ہوا کرتا تھا۔
آج بھی گھوڑا فوجی ضروریات کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3645]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3645
3645. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: خیروبرکت توقیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانی سے باندھ دی گئی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3645]
حدیث حاشیہ:

نواصی الخیل سے وہ بال مراد ہیں جو گھوڑے کی پیشانی پر لٹکے ہوتے ہیں۔
اس سے مقصود صرف بال نہیں بلکہ یہ پوری ذات سے کنایہ ہے،یعنی گھوڑا سارے کا سارا خیروبرکت کا حامل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
آج بھی فوج میں گھوڑے کی اہمیت مسلم ہے۔
فوجی ضروریات کے لیے اسے رکھا جاتا ہے بلکہ فوج میں اس کے متعلق مستقل ایک شعبہ قائم ہے۔
اس میں اعلیٰ قسم کے گھوڑے درآمد کیے جاتے ہیں اور فوجیوں کو اس پر سواری کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
قیامت تک گھوڑوں کی یہ ضرورت باقی رہے گی۔
ان کی خیروبرکت یہی ہے کہ ان کی ضرورت باقی رہے گی،خواہ دور کتنا ہی ماڈرن ہوجائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3645]