یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3645
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا بْنَ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ".
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ برکت باندھ دی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3645]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر و برکت تو قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانی سے باندھ دی گئی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3645]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2851
| البركة في نواصي الخيل |
صحيح البخاري |
3645
| الخيل معقود في نواصيها الخير |
صحيح مسلم |
4854
| البركة في نواصي الخيل |
سنن النسائى الصغرى |
3601
| البركة في نواصي الخيل |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3645 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3645
حدیث حاشیہ:
مراد مال غنیمت ہے جو گھوڑے سوار مجاہدین کو فتح کے نتیجہ میں حاصل ہوا کرتا تھا۔
آج بھی گھوڑا فوجی ضروریات کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
مراد مال غنیمت ہے جو گھوڑے سوار مجاہدین کو فتح کے نتیجہ میں حاصل ہوا کرتا تھا۔
آج بھی گھوڑا فوجی ضروریات کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3645]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3645
حدیث حاشیہ:
1۔
نواصی الخیل سے وہ بال مراد ہیں جو گھوڑے کی پیشانی پر لٹکے ہوتے ہیں۔
اس سے مقصود صرف بال نہیں بلکہ یہ پوری ذات سے کنایہ ہے،یعنی گھوڑا سارے کا سارا خیروبرکت کا حامل ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
آج بھی فوج میں گھوڑے کی اہمیت مسلم ہے۔
فوجی ضروریات کے لیے اسے رکھا جاتا ہے بلکہ فوج میں اس کے متعلق مستقل ایک شعبہ قائم ہے۔
اس میں اعلیٰ قسم کے گھوڑے درآمد کیے جاتے ہیں اور فوجیوں کو اس پر سواری کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
قیامت تک گھوڑوں کی یہ ضرورت باقی رہے گی۔
ان کی خیروبرکت یہی ہے کہ ان کی ضرورت باقی رہے گی،خواہ دور کتنا ہی ماڈرن ہوجائے۔
1۔
نواصی الخیل سے وہ بال مراد ہیں جو گھوڑے کی پیشانی پر لٹکے ہوتے ہیں۔
اس سے مقصود صرف بال نہیں بلکہ یہ پوری ذات سے کنایہ ہے،یعنی گھوڑا سارے کا سارا خیروبرکت کا حامل ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
آج بھی فوج میں گھوڑے کی اہمیت مسلم ہے۔
فوجی ضروریات کے لیے اسے رکھا جاتا ہے بلکہ فوج میں اس کے متعلق مستقل ایک شعبہ قائم ہے۔
اس میں اعلیٰ قسم کے گھوڑے درآمد کیے جاتے ہیں اور فوجیوں کو اس پر سواری کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
قیامت تک گھوڑوں کی یہ ضرورت باقی رہے گی۔
ان کی خیروبرکت یہی ہے کہ ان کی ضرورت باقی رہے گی،خواہ دور کتنا ہی ماڈرن ہوجائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3645]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3601
گھوڑے کی برکت کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت (رکھ دی گئی) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3601]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت (رکھ دی گئی) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3601]
اردو حاشہ:
ان گھوڑوں سے مراد جہاں میں استعمال ہونے والے گھوڑے ہیں۔ برکت کی تفصیل کے لیے دیکھے‘ حدیث: 3591۔
ان گھوڑوں سے مراد جہاں میں استعمال ہونے والے گھوڑے ہیں۔ برکت کی تفصیل کے لیے دیکھے‘ حدیث: 3591۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3601]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2851
2851. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیرو برکت ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2851]
حدیث حاشیہ:
الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جوجہاد کے لیے رکھے گئے ہوں۔
اس قسم کے گھوڑوں میں واقعی بڑی خیروبرکت ہے۔
دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ان گھوڑوں کا اہتمام کرنے والے کو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا اورقیامت کےدن تو اس کا گوبر اور پیشاب تک نامہ اعمال میں رکھ دے گا۔
اور ان کا وزن کرکے نیکیاں دی جائیں گی۔
ویسے بھی گھوڑا سواری کے جانوروں میں ایک نمایاں حیثیت کا حامل ہے اور وفا شعاری کے اعتبارسے انسانوں کے لیے ایک محبوب جانور ہے،خاص طور پر میدان جنگ میں گھوڑے کی سواری اہمیت رکھتی ہے۔
آج کل جدید دور میں جبکہ بہترین سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں اس کے باجود گھوڑے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
دنیا کی کوئی ایسی حکومت نہیں جس میں گھڑ سوار فوج کا دستہ نہ ہو۔
الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جوجہاد کے لیے رکھے گئے ہوں۔
اس قسم کے گھوڑوں میں واقعی بڑی خیروبرکت ہے۔
دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ان گھوڑوں کا اہتمام کرنے والے کو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا اورقیامت کےدن تو اس کا گوبر اور پیشاب تک نامہ اعمال میں رکھ دے گا۔
اور ان کا وزن کرکے نیکیاں دی جائیں گی۔
ویسے بھی گھوڑا سواری کے جانوروں میں ایک نمایاں حیثیت کا حامل ہے اور وفا شعاری کے اعتبارسے انسانوں کے لیے ایک محبوب جانور ہے،خاص طور پر میدان جنگ میں گھوڑے کی سواری اہمیت رکھتی ہے۔
آج کل جدید دور میں جبکہ بہترین سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں اس کے باجود گھوڑے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
دنیا کی کوئی ایسی حکومت نہیں جس میں گھڑ سوار فوج کا دستہ نہ ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2851]
Sahih Bukhari Hadith 3645 in Urdu
يزيد بن حميد الضبعي ← أنس بن مالك الأنصاري