علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى قول الله تعالى: {وهو الذى يبدأ الخلق ثم يعيده} :
باب: اور اللہ پاک نے فرمایا ”اللہ ہی ہے جس نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا، اور وہی پھر دوبارہ (موت کے بعد) زندہ کرے گا اور یہ (دوبارہ زندہ کرنا) تو اس پر اور بھی آسان ہے“۔
حدیث نمبر: Q3190
قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَالْحَسَنُ كُلٌّ عَلَيْهِ هَيِّنٌ هَيْنٌ وَهَيِّنٌ مِثْلُ لَيْنٍ وَلَيِّنٍ وَمَيْتٍ وَمَيِّتٍ وَضَيْقٍ وَضَيِّقٍ أَفَعَيِينَا سورة ق آية 15 أَفَأَعْيَا عَلَيْنَا حِينَ أَنْشَأَكُمْ وَأَنْشَأَ خَلْقَكُمْ لُغُوبٌ سورة فاطر آية 35 النَّصَبُ أَطْوَارًا سورة نوح آية 14، طَوْرًا كَذَا وَطَوْرًا كَذَا عَدَا طَوْرَهُ أَيْ قَدْرَهُ.
اور ربیع بن خشیم اور امام حسن بصریٰ نے کہا کہ یوں تو دونوں یعنی (پہلی مرتبہ پیدا کرنا پھر دوبارہ زندہ کر دینا) اس کے لیے بالکل آسان ہے (لیکن ایک کو یعنی پیدائش کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو زیادہ آسان ظاہر کے اعتبار سے کہا) (مشدد اور مخفف) دونوں طرح پڑھنا جائز ہے اور سورۃ قٓ میں جو لفظ «أفعيينا» آیا ہے، اس کے معنی ہیں کہ کیا ہمیں پہلی بار پیدا کرنے نے عاجز کر دیا تھا۔ جب اس اللہ نے تم کو پیدا کر دیا تھا اور تمہارے مادے کو پیدا کیا اور اسی سورت میں (اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں) «لغوب» کے معنی تھکن کے ہیں اور سورۃ نوح میں جو فرمایا «أطوارا» اس کے معنی یہ ہیں کہ مختلف صورتوں میں تمہیں پیدا کیا۔ کبھی نطفہ ایسے خون کی پھٹکی پھر گوشت پھر ہڈی پوست۔ عرب لوگ بولا کرتے ہیں «عدا طوره» یعنی فلاں اپنے مرتبہ سے بڑھ گیا۔ یہاں «أطوارا» کے معنی رتبے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: Q3190]
حدیث نمبر: 3190
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا بَنِي تَمِيمٍ أَبْشِرُوا، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَجَاءَهُ أَهْلُ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْيَمَنِ اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ، قَالُوا: قَبِلْنَا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بَدْءَ الْخَلْقِ وَالْعَرْشِ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" يَا عِمْرَانُ رَاحِلَتُكَ تَفَلَّتَتْ لَيْتَنِي لَمْ أَقُمْ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں جامع بن شداد نے، انہیں صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے بنی تمیم کے لوگو! تمہیں بشارت ہو۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت جب آپ نے ہم کو دی ہے تو اب ہمیں کچھ مال بھی دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر آپ کی خدمت میں یمن کے لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی فرمایا کہ اے یمن والو! بنو تمیم کے لوگوں نے تو خوشخبری کو قبول نہیں کیا، اب تم اسے قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ مخلوق اور عرش الٰہی کی ابتداء کے بارے میں گفتگو فرمانے لگے۔ اتنے میں ایک (نامعلوم) شخص آیا اور کہا کہ عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ (عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) کاش، میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥صفوان بن محرز المازني، أبو عبد الله صفوان بن محرز المازني ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة | |
👤←👥جامع بن شداد المحاربي، أبو صخرة جامع بن شداد المحاربي ← صفوان بن محرز المازني | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← جامع بن شداد المحاربي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله محمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4365
| اقبلوا البشرى إذ لم يقبلها بنو تميم |
صحيح البخاري |
3190
| اقبلوا البشرى إذ لم يقبلها بنو تميم |
صحيح البخاري |
4386
| اقبلوا البشرى إذ لم يقبلها بنو تميم |
جامع الترمذي |
3951
| اقبلوا البشرى إذ لم تقبلها بنو تميم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3190 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3190
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوتمیم کو اسلام لانے کی وجہ سے آخر کی بھلائی کی خوش خبری دی تھی۔
بنوتمیم کے لوگوں نے اپنی کم عقلی سے یہ سمجھا کہ آپ دنیا کا مال دولت دینے والے ہیں۔
ان کی اس سوچ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ ہوا۔
کہتے ہیں کہ یہ مانگے والا اقرع بن حابس نامی ایک جنگلی آدمی تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوتمیم کو اسلام لانے کی وجہ سے آخر کی بھلائی کی خوش خبری دی تھی۔
بنوتمیم کے لوگوں نے اپنی کم عقلی سے یہ سمجھا کہ آپ دنیا کا مال دولت دینے والے ہیں۔
ان کی اس سوچ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ ہوا۔
کہتے ہیں کہ یہ مانگے والا اقرع بن حابس نامی ایک جنگلی آدمی تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3190]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3190
حدیث حاشیہ:
1۔
اہل یمن سے مراد وفد حمیرہےہے۔
اس سے مراد حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور ان کے ساتھی نہیں ہیں کیونکہ امام بخاری ؒ نے آئندہ ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے۔
(باب قدوم الأشعريين وأهل اليمن)
”اشعر یین اور اہل یمن کے وفد کی آمد۔
“ (صحیح البخاري، المغازي، باب: 75)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اشعریین اور اہل یمن دونوں الگ ہیں اس کے علاوہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 7 ہجری میں فتح خیبر کے وقت آئے تھے جبکہ اہل یمن 9 ہجری میں بطوروفد آئے تھے تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو تمیم کے ساتھ اسی وفد کا اجتماع ہوا تھا اشریین بنو تمیم کے ساتھ جمع نہیں ہوئے۔
(فتح الباري: 122/8)
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبنو تمیم کو قبول اسلام کی وجہ سے اخروی کامیابی کی بشارت دی۔
انھوں نے اسے دنیا کے مال و متاع کی خوشخبری خیال کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی حرص اور دنیا طلبی پر پریشان ہوئے یا اس لیے رنجیدہ ہوئے کہ وہ لوگ نئےنئے مسلمان تھے۔
ان کی تالیف قلبی کے لیے آپ کے پاس مال نہ تھا اس لیے آپ افسردہ ہوئے لیکن پہلی توجیہ زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اہل یمن سے مراد وفد حمیرہےہے۔
اس سے مراد حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور ان کے ساتھی نہیں ہیں کیونکہ امام بخاری ؒ نے آئندہ ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے۔
(باب قدوم الأشعريين وأهل اليمن)
”اشعر یین اور اہل یمن کے وفد کی آمد۔
“ (صحیح البخاري، المغازي، باب: 75)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اشعریین اور اہل یمن دونوں الگ ہیں اس کے علاوہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 7 ہجری میں فتح خیبر کے وقت آئے تھے جبکہ اہل یمن 9 ہجری میں بطوروفد آئے تھے تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو تمیم کے ساتھ اسی وفد کا اجتماع ہوا تھا اشریین بنو تمیم کے ساتھ جمع نہیں ہوئے۔
(فتح الباري: 122/8)
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبنو تمیم کو قبول اسلام کی وجہ سے اخروی کامیابی کی بشارت دی۔
انھوں نے اسے دنیا کے مال و متاع کی خوشخبری خیال کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی حرص اور دنیا طلبی پر پریشان ہوئے یا اس لیے رنجیدہ ہوئے کہ وہ لوگ نئےنئے مسلمان تھے۔
ان کی تالیف قلبی کے لیے آپ کے پاس مال نہ تھا اس لیے آپ افسردہ ہوئے لیکن پہلی توجیہ زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3190]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4365
4365. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو تمیم کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں بشارت دی ہے مال بھی تو عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اس کے اثرات دیکھے گئے۔ پھر یمن سے ایک وفد آیا تو آپ نے فرمایا: ”بنو تمیم نے تو بشارت کو قبول نہیں کیا تم ہی اس بشارت کو قبول کر لو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے قبول کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4365]
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت کو قبول نہ کیا اور دنیائے دنی کے طالب ہوئے۔
حالانکہ وہ اگر بشار ت نبوی کو قبول کر لےتے تو کچھ نہ کچھ دنیا بھی مل ہی جاتی مگر ﴿خسر الدنیا والآخرة﴾ کے مصداق ہوئے۔
یمن کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں والوں نے بشارت نبوی کو قبول کیا۔
اس سے یمن کی فضیلت بھی ثابت ہوئی، مگر آج کل کی خانہ جنگی نے یمن کو داغدار کردیا ہے۔
اللهم ألف بین قلوب المسلمین، آمین۔
بنو تمیم سارے ہی ایسے نہ تھے یہ چند لوگ تھے جن سے یہ غلطی ہوئی باقی بنو تمیم کے فضائل بھی ہیں جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت کو قبول نہ کیا اور دنیائے دنی کے طالب ہوئے۔
حالانکہ وہ اگر بشار ت نبوی کو قبول کر لےتے تو کچھ نہ کچھ دنیا بھی مل ہی جاتی مگر ﴿خسر الدنیا والآخرة﴾ کے مصداق ہوئے۔
یمن کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں والوں نے بشارت نبوی کو قبول کیا۔
اس سے یمن کی فضیلت بھی ثابت ہوئی، مگر آج کل کی خانہ جنگی نے یمن کو داغدار کردیا ہے۔
اللهم ألف بین قلوب المسلمین، آمین۔
بنو تمیم سارے ہی ایسے نہ تھے یہ چند لوگ تھے جن سے یہ غلطی ہوئی باقی بنو تمیم کے فضائل بھی ہیں جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4365]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4386
4386. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تمہیں بشارت ہو۔“ انہوں نے کہا: جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو مال بھی دیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ اس کے بعد یمن سے کچھ لوگ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل یمن! تم ہی بشارت قبول کر لو جبکہ بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔“ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم یہ بشارت قبول کرتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4386]
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث اوپر گذر چکی ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ اس میں یہ اشکا ل پیدا ہوتا ہے کہ بنوتمیم کے لوگ تو 9ھ میں آئے تھے اور اشعری اس سے پہلے 7ھ میں، اس کا جواب یوں دیا ہے کہ کچھ اشعری لوگ بنوتمیم کے بعد بھی آئے ہوں گے۔
یہ حدیث اوپر گذر چکی ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ اس میں یہ اشکا ل پیدا ہوتا ہے کہ بنوتمیم کے لوگ تو 9ھ میں آئے تھے اور اشعری اس سے پہلے 7ھ میں، اس کا جواب یوں دیا ہے کہ کچھ اشعری لوگ بنوتمیم کے بعد بھی آئے ہوں گے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4386]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4365
4365. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو تمیم کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں بشارت دی ہے مال بھی تو عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اس کے اثرات دیکھے گئے۔ پھر یمن سے ایک وفد آیا تو آپ نے فرمایا: ”بنو تمیم نے تو بشارت کو قبول نہیں کیا تم ہی اس بشارت کو قبول کر لو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے قبول کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4365]
حدیث حاشیہ:
بنو تمیم کا پورا قبیلہ اس طرح کا نہ تھا، صرف چند افراد تھے جن سے یہ غلطی ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے ناراض ہوئے کہ ان لوگوں نے جنت کی دائمی نعمتوں کو ٹھکرا کردنیا کے حقیر مال کا مطالبہ کیا، حالانکہ اگروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو قبول کرلیتے توانھیں دنیا میں بھی بہت کچھ ملتا، البتہ اہل یمن کی خوش بختی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو قبول کیا۔
اس سے یمن اور اہل یمن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
بنو تمیم کا پورا قبیلہ اس طرح کا نہ تھا، صرف چند افراد تھے جن سے یہ غلطی ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے ناراض ہوئے کہ ان لوگوں نے جنت کی دائمی نعمتوں کو ٹھکرا کردنیا کے حقیر مال کا مطالبہ کیا، حالانکہ اگروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو قبول کرلیتے توانھیں دنیا میں بھی بہت کچھ ملتا، البتہ اہل یمن کی خوش بختی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو قبول کیا۔
اس سے یمن اور اہل یمن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4365]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4386
4386. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تمہیں بشارت ہو۔“ انہوں نے کہا: جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو مال بھی دیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ اس کے بعد یمن سے کچھ لوگ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل یمن! تم ہی بشارت قبول کر لو جبکہ بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔“ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم یہ بشارت قبول کرتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4386]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؓ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے جبکہ قبل ازیں یہ حدیث تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔
اس میں ہے کہ اہل یمن نے اس کائنات کے آغاز کے متعلق سوال کیا تھا۔
(صحیح البخاري، بدءالخلق، حدیث: 3119)
2۔
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ اشکال ہے کہ بنو تمیم کے لوگ تو 9ہجری میں مدینہ طیبہ آئے تھے جبکہ اشعری حضرات اس سے پہلے غزوہ خیبر کے موقع پر سات ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئےان کا اجتماع کیونکر ممکن ہے؟ پھر اس کا یوں جواب دیا ہے کہ کچھ اشعری حضرات غزوہ خیبر کے بعد بھی آئے ہوں گے۔
(فتح الباري: 123/8)
1۔
امام بخاری ؓ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے جبکہ قبل ازیں یہ حدیث تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔
اس میں ہے کہ اہل یمن نے اس کائنات کے آغاز کے متعلق سوال کیا تھا۔
(صحیح البخاري، بدءالخلق، حدیث: 3119)
2۔
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ اشکال ہے کہ بنو تمیم کے لوگ تو 9ہجری میں مدینہ طیبہ آئے تھے جبکہ اشعری حضرات اس سے پہلے غزوہ خیبر کے موقع پر سات ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئےان کا اجتماع کیونکر ممکن ہے؟ پھر اس کا یوں جواب دیا ہے کہ کچھ اشعری حضرات غزوہ خیبر کے بعد بھی آئے ہوں گے۔
(فتح الباري: 123/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4386]
Sahih Bukhari Hadith 3190 in Urdu
صفوان بن محرز المازني ← عمران بن حصين الأزدي