🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب النهي عن الصلاة بالهاجرة
ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27
وَحَدَّثَنَا مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" . وَذَكَرَ:" أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ: نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک، اس لیے کہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے۔ اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: آگ نے گلہ کیا پروردگار سے تو اذن دیا پروردگار نے اس کو دو سانسوں کا، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 533، 536، 3260، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 615، 617، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 329، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1504، 1506، 1507، 1510، 7466، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 499، 501، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1499، 1500، وأبو داود فى «سننه» برقم: 402، والترمذي فى «جامعه» برقم: 157، 2592، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1243، 2887، 2888، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 677، 678، 4319، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2089، 2090، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7251، 7366، والحميدي فى «مسنده» برقم: 971، 972، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5871، والطبراني فى «الصغير» برقم: 384، شركة الحروف نمبر: 25، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 28»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الرحمن القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← محمد بن عبد الرحمن القرشي
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن يزيد القرشي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3260
أكل بعضي بعضا فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فأشد ما تجدون من الحر وأشد ما تجدون من الزمهرير
صحيح مسلم
1401
أكل بعضي بعضا فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فهو أشد ما تجدون من الحر وأشد ما تجدون من الزمهرير
صحيح مسلم
1403
أكل بعضي بعضا فأذن لي أتنفس فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فما وجدتم من برد أو زمهرير فمن نفس جهنم وما وجدتم من حر أو حرور فمن نفس جهنم
جامع الترمذي
2592
أكل بعضي بعضا فجعل لها نفسين نفسا في الشتاء ونفسا في الصيف فأما نفسها في الشتاء فزمهرير وأما نفسها في الصيف فسموم
سنن ابن ماجه
4319
أكل بعضي بعضا فجعل لها نفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فشدة ما تجدون من البرد من زمهريرها وشدة ما تجدون من الحر من سمومها
موطأ مالك رواية يحيى الليثي
27
النار اشتكت إلى ربها فأذن لها في كل عام بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 27 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 27
فائدہ:
ان احادیثِ مبارکہ میں نماز سے مراد نماز ظہر ہے اور نماز کو ٹھنڈا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اُسے عصر تک یا اُس سے بھی مؤخر کر دیا جائے، بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ گرمی کا زور ٹوٹ جائے، چنانچہ جب سورج عین سر کے برابر پہنچتا ہے تو اس کی حرارت و تمازت نقطۂ عروج پر ہوتی ہے، پھر جیسے ہی وہ ڈھلتا ہے تو اس کی گرمی و تپش میں فوراً کمی شروع ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح کہ جیسے دودھ دیگچی میں ابلتا ابلتا جب باہر گرنے لگتا ہے تو وہ مکمل طور پر شدید گرم ہو چکا ہوتا ہے اور آپ کے چولہا بند کرنے سے وہ بھی فوراً اُبلنا بند کر دیتا ہے کیونکہ اس کی حرارت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے، اگرچہ وہ اس حالت میں ہم سے پیا نہیں جاتا لیکن وہ لمحہ بہ لمحہ ٹھنڈا ہونا شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
بعض روایات میں ان دونوں سانسوں کے تذکرے کے بعد یہ الفاظ بھی مروی ہیں: «فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِوَاشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ» تو یہ (سانس) وه سخت ترین گرمی ہے جو تم (گرمیوں میں) محسوس کرتے ہو اور وہ سخت ترین سردی ہے جو تم (سردیوں میں) محسوس کرتے ہو۔ [بخاري: 537، مسلم: 617]
دونوں سانسوں کی کیفیت میں راجح قول یہ ہے کہ جہنم گرمی و سردی میں ایک ایک گرم اور سرد سانس باہر نکالتی ہے، کیونکہ جہنم میں دونوں قسم کا عذاب ہے، سخت گرم بھی اور سخت سرد بھی، دوسرا قول یہ ہے کہ جہنم گرمیوں میں سانس باہر خارج کرتی ہے اور سردیوں میں اندر کھینچتی ہے۔ [والله اعلم]
یاد رہے کہ اللہ تعالی بعض اوقات ایک ہی چیز کی تخلیق اور اظہار کے لیے مختلف قسم کے اسباب کو جمع فرما دیتے ہیں لہذا گرمی کی شدت کے لیے زمین کا سورج کے ذرا قریب ہو جانا اور ادھر جہنم کا گرم سانس خارج کر دینا سبب بنا دیے گئے ہیں جس طرح کہ زمین کی سورج سے دوری اور جہنم کا ٹھنڈا سانس سردی کی شدت کے اسباب ہیں۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 27]