سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب مناقب جرير بن عبد الله البجلي رضى الله عنه
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3820
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3820]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 162 (3035)، وفضائل الأنصار 21 (3822)، والأدب 68 (6090)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 29 (2475)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (159) (تحفة الأشراف: 3224) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دیدی، منع نہیں کیا، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دے دینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (159)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3822
| ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك |
صحيح مسلم |
6363
| احجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك |
صحيح مسلم |
6364
| ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم في وجهي |
جامع الترمذي |
3821
| ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم |
جامع الترمذي |
3820
| ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك |
المعجم الصغير للطبراني |
853
| ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3820 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3820
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی،
منع نہیں کیا،
اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں،
اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے،
ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دیدینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی،
منع نہیں کیا،
اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں،
اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے،
ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دیدینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3820]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3822
3822. حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3822]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود ہوتے اور میں اندر آنے کی اجازت لیتا تو آپ نے مجھے کبھی نہیں روکا، یہ معنی نہیں کہ آپ بلااجازت گھر کے اندر چلے جاتے تھے، نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انھیں دیکھتے تو مسکرادیتے۔
ایک روایت میں ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں یمن سے مدینہ طیبہ آیاتو قریب پہنچ کر میں نے اپنا لباس تبدیل کیا تو لوگ مجھے تعجب سے دیکھنے لگے۔
میں نے ان سے پوچھا:
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میراذکر خیر کیا ہے؟ لوگوں نے کہا:
ہاں، آپ نے فرمایا ہے:
”ابھی ابھی تمہارے پاس یمن سے ایک بہترین آدمی آرہا ہے، جس کے چہرے کو فرشتے نے مس کیا ہے، یعنی وہ انتہائی خوبصورت ہے۔
“ (مسند أحمد: 359/4۔
360)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود ہوتے اور میں اندر آنے کی اجازت لیتا تو آپ نے مجھے کبھی نہیں روکا، یہ معنی نہیں کہ آپ بلااجازت گھر کے اندر چلے جاتے تھے، نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انھیں دیکھتے تو مسکرادیتے۔
ایک روایت میں ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں یمن سے مدینہ طیبہ آیاتو قریب پہنچ کر میں نے اپنا لباس تبدیل کیا تو لوگ مجھے تعجب سے دیکھنے لگے۔
میں نے ان سے پوچھا:
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میراذکر خیر کیا ہے؟ لوگوں نے کہا:
ہاں، آپ نے فرمایا ہے:
”ابھی ابھی تمہارے پاس یمن سے ایک بہترین آدمی آرہا ہے، جس کے چہرے کو فرشتے نے مس کیا ہے، یعنی وہ انتہائی خوبصورت ہے۔
“ (مسند أحمد: 359/4۔
360)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3822]
قيس بن أبي حازم البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي