🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب ما كان السلف يدخرون فى بيوتهم وأسفارهم من الطعام واللحم وغيره:
باب: سلف صالحین اپنے گھروں میں اور سفروں میں جس طرح کا کھانا میسر ہوتا اور گوشت وغیرہ محفوظ رکھ لیا کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5423
وَقَالَتْ عَائِشَةُ وَأَسْمَاءُ:" صَنَعْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأَبِي بَكْرٍ سُفْرَةً".
اور عائشہ رضی اللہ عنہما اور اسماء رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے سفر ہجرت کے لیے) توشہ تیار کیا تھا (جسے ایک دستر خوان میں باندھ دیا گیا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5423]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5423
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ؟ قَالَتْ: مَا فَعَلَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، قِيلَ: مَا اضْطَرَّكُمْ إِلَيْهِ؟ فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ". وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ بِهَذَا.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ صرف ایک سال اس کا حکم دیا تھا جس سال قحط پڑا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا تھا (اس حکم کے ذریعہ) کہ جو مال والے ہیں وہ (گوشت محفوظ کرنے کے بجائے) محتاجوں کو کھلا دیں اور ہم بکری کے پائے محفوظ رکھ لیتے تھے اور اسے پندرہ پندرہ دن بعد کھاتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کرنے کے لیے کیا مجبوری تھی؟ اس پر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں اور فرمایا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر کبھی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے۔ اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5423]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عابس النخعيثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عابس النخعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← محمد بن كثير العبدي
صحابي
👤←👥عابس بن ربيعة النخعي
Newعابس بن ربيعة النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥عبد الرحمن بن عابس النخعي
Newعبد الرحمن بن عابس النخعي ← عابس بن ربيعة النخعي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عابس النخعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥خلاد بن يحيى السلمي، أبو محمد
Newخلاد بن يحيى السلمي ← سفيان الثوري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5423
تؤكل لحوم الأضاحي فوق ثلاث ما شبع آل محمد من خبز بر مأدوم ثلاثة أيام حتى لحق بالله
صحيح البخاري
5570
لا تأكلوا إلا ثلاثة أيام
صحيح مسلم
5103
عن أكل لحوم الضحايا بعد ثلاث
سنن أبي داود
2812
نهيت عن إمساك لحوم الضحايا بعد ثلاث نهيتكم من أجل الدافة التي دفت عليكم كلوا وتصدقوا وادخروا
سنن النسائى الصغرى
4436
نهيت للدافة التي دفت كلوا وادخروا وتصدقوا
سنن ابن ماجه
3159
عن لحوم الأضاحي لجهد الناس ثم رخص فيها
سنن ابن ماجه
1570
رخص في زيارة القبور
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
349
نهى رسول الله عن اكل لحوم الضحايا بعد ثلاث
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5423 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5423
حدیث حاشیہ:
اس سند کے بیان کرنے سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ غرض ہے کہ سفیان کا سماع عبدالرحمن سے ثابت ہو جائے۔
ابن کثیر کی روایت کو طبرانی نے وصل کیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5423]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5423
حدیث حاشیہ:
(1)
طعام سے ہر وہ چیز مراد ہے جو کھائی جاتی ہو۔
اس حدیث میں پائے ذخیرہ کرنے کا بیان ہے۔
(2)
عنوان سے مناسبت واضح ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ تھا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا تاکہ مال دار لوگ غرباء و مساکین کو گوشت کھلائیں۔
اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہو گیا۔
(3)
سائل کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہنس پڑنا بطور تعجب تھا کہ آل رسول کی معیشت میں وسعت نہ تھی اور کئی کئی روز فاقے سے گزر جاتے تو مجبوری کا سبب دریافت باعث تعجب ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5423]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 349
قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھایا جا سکتا ہے
«. . . 309- وعن عبد الله بن أبى بكر عن عبد الله بن واقد أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال عبد الله بن أبى بكر: فذكرت ذلك لعمرة بنت عبد الرحمن فقالت: صدق، سمعت عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم تقول: دف ناس من أهل البادية حضرة الأضحى فى زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادخروا الثلاث وتصدقوا بما بقي، قالت: فلما كان بعد ذلك، قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، لقد كان الناس ينتفعون بضحاياهم ويجملون منها الودك ويتخذون منها الأسقية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما ذاك؟، أو كما قال، قالوا: يا رسول الله، نهيت عن إمساك لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت عليكم، فكلوا وتصدقوا وادخروا. . . .»
. . . عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا، عبداللہ بن ابی بکر (راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا ذکر عمرہ بنت عبدالرحمٰن (رحمہا اللہ) سے کیا تو انہوں نے کہا: اُس (عبداللہ بن واقد) نے سچ کہا:، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کے وقت کچھ (خانہ بدوش) لوگ مدینہ آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن (گوشت کا) ذخیرہ کرو اور باقی صدقہ کر دو۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے، چربی پگھلاتے اور (کھالوں کی) مشکیں بناتے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت روکے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ان لوگوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو تمہارے پاس (مدینہ میں) آئے تھے۔ پس (اب) کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 349]
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 1971، من حديث مالك به ● وفي روايته يحيي بن يحيي: للثلاث]
۔ تفقه
➊ علماء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ تین دنوں سے زیادہ، قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیر کرنے سے ممانعت والا حکم منسوخ ہے دیکھئے [التمهيد 216/3] ۔
➋ حافظ ابن عبد البر نے فرمایا کہ جس طرح قرآن میں ناسخ و منسوخ ہے اسی طرح حدیث میں بھی ناسخ و منسوخ ہے اور یہ اوامر ونواہی (احکام) میں تخفیف و مصالح وغیرہما کے لئے ہوتا ہے۔ اخبار سابقہ میں قطعاً نسخ نہیں ہوتا۔ روافض اور خوارج نے اس کا انکار کرکے یہود کی موافقت کی ہے اور یاد رہے کہ یہ بدأ کہتے ہیں یہ عقیدہ صریحاً کفر ہے۔
➌ ممانعت کے بعد جو حکم ہوتا ہے وہ اباحت پر محمول ہوتا ہے۔ [التمهيد 217/3]
لہٰذا اب یہ جائز ہے کہ ساری قربانی کا گوشت خود کھایا جائے یا سارا صدقہ کر دیا جائے یا پھر ذخیرہ کرلیا جائے۔ بعض علماء اس گوشت کے تین حصے کرنا پسند کرتے تے: ایک تہائی خود کھایا جائے، ایک تہائی صدقہ کردیا جائے اور ایک تہائی ذخیرہ کرلیا جائے لیکن پہلی بات راجح ہے۔ نیز دیکھئے [سورة الحج: 28، 36]
➍ حج کے علاہ دوسرے مقامات مثلاً مدینہ اور ساری زمین پر قربانی کرنا مسنون و مشروع ہے لہٰذ بعض منکرین حدیث کا یہ دعویٰ کہ قربانی حج کے ساتھ مخصوص ہے، غلط ہے۔
➎ بات کی تصدیق یا تحقیق کے لئے کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر امر ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 309]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4436
قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: تو اب کیا ہوا؟ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: میں [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4436]
اردو حاشہ:
گویا پہلے سال آپ کا روکنا مخصوص حالات کی وجہ سے تھا جو اس قافلے کی آمد سے پیدا ہوئے تھے ورنہ اصولی طور پر قربانی کی ہر چیز، مثلاً: گوشت، چربی اور چمڑے وغیرہ سے دیر تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، البتہ فقراء اور سائلین کو دینا بھی ضروری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4436]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1570
قبروں کی زیارت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1570]
اردو حاشہ:
فائده:
اجازت کا لفظ اسی لئے فرمایا ہے۔
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا بعد میں اجازت دے دی جیسے کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1570]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5103
عبداللہ بن واقد نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا، (ابن واقد کے شاگرد) عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں، میں نے اس حدیث کا تذکرہ حضرت عمرہ سے کیا، تو اس نے کہا، اس نے سچ کہا، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بیان کرتے سنا، عید الاضحیٰ کے دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کچھ بادیہ نشین گھرانے آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن کے لیے ذخیرہ کر لو اور باقی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5103]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الدافة:
شہر میں آنے والی بادیہ نشین جماعت۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے ممانعت کا حکم قانونی حکم نہیں تھا،
یہ تو محض ایک وقتی اور عارضی ضرورت کے تحت اس مصلحت کی خاطر تھا کہ باہر سے آنے والے ضرورتمندوں کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے،
اس لیے آپ نے صحابہ کرام کے اس سوال پر کہ ہم قربانیوں سے مشکیں بناتے تھے اور چربی پگھلاتے تھے،
تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا،
ما ذاك اب اس میں کیا حرج ہے یا پھر کیا ہوا،
اس لیے یہاں نسخ کا سوال نہیں ہے،
کیونکہ یہ فقہی یا قانونی حکم نہیں تھا،
ایک وقتی مصلحت کا تقاضا تھا اور اب بھی یہ مصلحت ہو،
کسی علاقہ یا شہر اور بستی میں قربانیوں کی تعداد کم ہو اور محتاج و ضرورت مند زیادہ ہوں،
تو اب بھی لوگوں کا اخلاقی فرض یہی ہو گا کہ زیادہ سے زیادہ گوشت صدقہ کیا جائے،
جمہور کے نزدیک صدقہ کرنے کا حکم استحبابی ہے،
جیسا کہ کھانے کا حکم استحبابی ہے،
اگرچہ بعض ائمہ کے نزدیک قربانی کے گوشت کا کچھ حصہ صدقہ کرنا فرض ہے اور کھانا بھی فرض ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5103]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5570
5570. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا ہم مدینہ طیبہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیتے تھے پھر اسے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک نہ کھاؤ۔ یہ حکم کوئی ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا مقصد یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت ان لوگوں کو بھی کھلائیں جن کے ہاں قربانی نہ ہوئی ہو۔ واللہ أعلم [صحيح بخاري، حديث نمبر:5570]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عابس بن ربیعہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک کھانے سے منع فرمایا تھا؟ تو آپ نے فرمایا:
صرف ایک سال یہ پابندی عائد کی تھی، جب قحط کی وجہ سے لوگوں میں بھوک نے ڈیرے ڈال دیے تھے تو آپ نے چاہا کہ مال دار لوگ، غریبوں کو کھلائیں اور ان کی مشقت میں ان کا تعاون کریں۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5423)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں نے غریب لوگوں کی غربت کی وجہ سے تین دن سے زیادہ گوشت کھانے سے منع کیا تھا جو تمہارے پاس محتاج بن کر آئے تھے، اب کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ بھی کرو۔
(صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5103 (1971)
اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کرنے والا خود بھی کھائے، دوستوں کو ہدیہ بھی دے اور غریبوں کو بھی کھلائے۔
(فتح الباري: 34/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5570]

Sahih Bukhari Hadith 5423 in Urdu