🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب ليس الواصل بالمكافي:
باب: ناطہٰ جوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف بدلہ ادا کر دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ يَرْفَعْهُ الْأَعْمَشُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَهُ حَسَنٌ، وَفِطْرٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش اور حسن بن عمرو اور فطر بن خلیفہ نے، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے سفیان سے، کہا کہ اعمش نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں بیان کی لیکن حسن اور فطر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا، فرمایا کہ کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5991]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدلہ چکانے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا تعلق ختم کر دیا جائے تو وہ پھر بھی صلہ رحمی کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5991]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥فطر بن خليفة المخزومي، أبو بكر
Newفطر بن خليفة المخزومي ← مجاهد بن جبر القرشي
صدوق رمي بالتشيع
👤←👥الحسن بن عمرو التميمي
Newالحسن بن عمرو التميمي ← فطر بن خليفة المخزومي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← الحسن بن عمرو التميمي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5991
ليس الواصل بالمكافئ ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها
جامع الترمذي
1908
ليس الواصل بالمكافئ ولكن الواصل الذي إذا انقطعت رحمه وصلها
سنن أبي داود
1697
ليس الواصل بالمكافئ ولكن هو الذي إذا قطعت رحمه وصلها
مسندالحميدي
602
الراحمون يرحمهم الرحمن، ارحموا أهل الأرض يرحمكم أهل السماء
مسندالحميدي
605
ليس الواصل بالمكافئ، ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5991 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5991
حدیث حاشیہ:
کمال اس کا نام جو حدیث میں مذکور ہوا۔
رشتہ دار اگر نہ ملے تو تم اس سے ملنے میں سبقت کرو بعد میں وہ تمہارا ولی حمیم گاڑھا دوست بن جائے گا جیسے کہ تجربہ شاہد ہے۔
حضرت اعمش بن سلیمان سنہ60 ھ میں سر زمین رے میں پیدا ہوئے پھر کوفے میں لائے گئے علم حدیث میں بہت مشہور ہیں۔
اکثر کوفیوں کی روایت کامدار ان ہی پر ہے۔
سنہ128ھ میں فوت ہوئے۔
رحمه اللہ تعالیٰ آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5991]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5991
حدیث حاشیہ:
اگرچہ بدلہ دینا بھی صلہ رحمی کی ہی قسم ہے، تاہم کامل صلہ رحمی یہی ہے کہ رشتے دار اگر نہ بھی ملے پھر بھی اس کے ساتھ رحم کا تعلق قائم رکھا جائے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دشمن بھی گہرا دوست بن جاتا ہے لیکن ایسا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں بلکہ ایسا کام تو بہت بڑے حوصلے والا کرسکتا ہے ہاں اگر کوئی رشتے دار صلہ رحمی کرتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہ دینا بلکہ قطع رحمی پر جمے رہنا بہت سنگین جرم ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5991]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1697
رشتے داروں سے صلہ رحمی (اچھے برتاؤ) کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1697]
1697. اردو حاشیہ: محض ادلے بدلے میں اجر نہیں۔لیکن اگر للہ فی اللہ بدلہ دے۔تو ان شاء اللہ ماجور اور فضیلت کا کام ہے <قرآن>۔(هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ)(الرحمٰن۔60) اور صلہ رحمی پر جس اجر فضیلت کا وعدہ کیا گیا ہے۔وہ اس صورت میں ہے کہ جب بندہ جب بنیادی طور پر اللہ پر ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل سے موصوف ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1697]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1908
صلہ رحمی کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے ۱؎، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناتا توڑنے پر بھی صلہ رحمی کرے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1908]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
یعنی صلہ رحمی کی جائے تو صلہ رحمی کرے اور قطع رحمی کیاجائے تو قطع رحمی کرے،
یہ کوئی صلہ رحمی نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1908]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:605
605- سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بدلہ دینے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہوتا۔ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے، جب اس کے رشتے کے حق کو پامال کیا جائے تو وہ اس وقت رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:605]
فائدہ:
اس حدیث میں صلۂ رحمی کی تعریف کی گئی ہے کہ صیح معنوں میں صلۂ رحمی اس کو کہتے ہیں کہ کوئی آپ کی مخالفت کرے اور آپ اس کے ساتھ صلۂ رحمی کریں۔ انتقام نہ لیا جائے، بدلہ نہ لیا جائے، مخالفت کی وجہ سے جنگ و جدل کا میدان گرم نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ نرمی والا معاملہ کیا جائے۔ اللہ کی قسم! اس کی وجہ سے مخالف کی تمام سازشیں ناکام ہو جائیں گی اور وہ آپ کا حقیقی دوست بن جائے گا، ان شاء اللہ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 605]

Sahih Bukhari Hadith 5991 in Urdu