🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب لم يكن النبى صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت گو اور بدزبان نہ تھے، «فاحش» بکنے والا اور «متفحش» لوگوں کو ہنسانے کے لیے بد زبانی کرنے والا بےحیائی کی باتیں کرنے والا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6029
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَخْيَرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا".
ہم سے حفص بن عمر بن حارث ابوعمرو حوش نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمرو السهمي ← قتيبة بن سعيد الثقفي
صحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر
Newحفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6029
من أخيركم أحسنكم خلقا
جامع الترمذي
1975
خياركم أحاسنكم أخلاقا ولم يكن النبي فاحشا ولا متفحشا
المعجم الصغير للطبراني
35
أكمل المؤمنين إيمانا أحاسنهم أخلاقا ، الموطئون أكنافا ، الذين يألفون ويؤلفون ، ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6029 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6029
حدیث حاشیہ:
(1)
فحش وہ بری بات ہے جو حد سےگزری ہوئی ہو، اس طرح کی باتیں کرنے والے کو فاحش کہتے ہیں اور متفحش بیہودگی اور یا وہ گوئی کرنا ہے۔
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے گندی اور بے حیائی پر مبنی باتیں کرنے والے کو متفحش کہتے ہیں۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی جیتی جاگتی تصویر تھے، اس لیے آپ نہ تو بدزبانی کرتے اور نہ آپ کو یا وہگوئی کرنے کی عادت تھی بلکہ قرآن کریم پر عمل کرنا آپ کی جبلت تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا:
کیا تو قرآن نہیں پڑھتا؟ آپ کا خلق تو قرآن کریم تھا۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1739(746)
قرآن کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وکردار کی ان الفاظ میں گواہی دی ہے:
یقیناً آپ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہیں۔
(القلم68: 4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی پسند نہیں کرتا۔
(مسند أحمد: 159/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6029]