صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب علامة حب الله عز وجل:
باب: اللہ عزوجل کی محبت کس کو کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6170
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6170]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6170
| المرء مع من أحب |
المعجم الصغير للطبراني |
712
| المرء مع من أحب |
محمد بن خازم الأعمى ← محمد بن عبيد الطنافسي