صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما يكره من لعن شارب الخمر وإنه ليس بخارج من الملة:
باب: شراب پینے والا اسلام سے نکل نہیں جاتا نہ اس پر لعنت کرنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 6780
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ:" أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ، مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص، جس کا نام عبداللہ تھا اور «حمار» کے لقب سے پکارے جاتے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب پینے پر مارا تھا تو انہیں ایک دن لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حکم دیا اور انہیں مارا گیا۔ حاضرین میں ایک صاحب نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے! کتنی مرتبہ کہا جا چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو واللہ میں نے اس کے متعلق یہی جانا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6780]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کا نام عبداللہ اور اس کا لقب حمار تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو شراب پینے پر مارا تھا، تو حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اللہ اس پر لعنت کرے! اسے بکثرت اس سلسلے میں لایا جاتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو اس کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6780]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6780
| اسمه عبد الله وكان يلقب حمارا وكان يضحك رسول الله وكان النبي قد جلده في الشراب فأتي به يوما فأمر به فجلد فقال رجل من القوم اللهم العنه ما أكثر ما يؤتى به فقال النبي لا تلعنوه فوالله ما علمت إنه يحب |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6780 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6780
حدیث حاشیہ:
شراب پینے والے مسلمان کو بھی آپ نے کس نظر محبت سے دیکھا یہ حدیث ہٰذا سے ظاہر ہے۔
شراب پینے والے مسلمان کو بھی آپ نے کس نظر محبت سے دیکھا یہ حدیث ہٰذا سے ظاہر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6780]
Sahih Bukhari Hadith 6780 in Urdu
أسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي