سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب: {إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم} الآية:
اللہ تعالیٰ کا فرمان: «إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ» کابیان
حدیث نمبر: 682
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ؟، قَالَ:"إِنِّي عَمْدًا صَنَعْتُ يَا عُمَرُ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: فَدَلَّ فِعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ سورة المائدة آية 6، لِكُلِّ مُحْدِثٍ، لَيْسَ لِلطَّاهِرِ، وَمِنْهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ"، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ابن بریدہ نے اپنے باپ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لئے وضو کرتے تھے، حتی کہ جب مکہ فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازیں ایک وضو سے پڑھیں، اور خفین پر مسح فرمایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے دیکھا آپ نے ایسا کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہ کرتے تھے؟ فرمایا: میں نے عمداً ایسا کیا ہے۔
ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل دال ہے اس بات پر کہ اس آیت « ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾ » [مائده: 6/5] کا مطلب ہے کہ ہر حدث والے پر ہر نماز کے لئے وضو ہے، اور باوضو کے لئے نہیں، اور اسی قبیل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”وضو صرف حدث سے ہے۔“ واللہ اعلم [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 682]
ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل دال ہے اس بات پر کہ اس آیت « ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾ » [مائده: 6/5] کا مطلب ہے کہ ہر حدث والے پر ہر نماز کے لئے وضو ہے، اور باوضو کے لئے نہیں، اور اسی قبیل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”وضو صرف حدث سے ہے۔“ واللہ اعلم [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 682]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 685] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المسند350/5] ، [مسلم 277] ، [أبوداؤد 172] ، [ترمذي 61] ، [نسائي 6/1] وغيرهم۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المسند350/5] ، [مسلم 277] ، [أبوداؤد 172] ، [ترمذي 61] ، [نسائي 6/1] وغيرهم۔
وضاحت: (تشریح احادیث 679 سے 682)
ان احادیثِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ وضو نہ ٹوٹے تو ایک وضو سے کئی وقت کی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، اور وضو ہوتے ہوئے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنا بھی درست ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بیان جواز ہی کے لئے کیا تھا۔
ان احادیثِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ وضو نہ ٹوٹے تو ایک وضو سے کئی وقت کی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، اور وضو ہوتے ہوئے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنا بھی درست ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بیان جواز ہی کے لئے کیا تھا۔
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
61
| لما كان عام الفتح صلى الصلوات كلها بوضوء واحد مسح على خفيه |
سنن أبي داود |
172
| صلى رسول الله يوم الفتح خمس صلوات بوضوء واحد مسح على خفيه |
صحيح مسلم |
642
| صلى الصلوات يوم الفتح بوضوء واحد مسح على خفيه |
سنن النسائى الصغرى |
133
| يتوضأ لكل صلاة لما كان يوم الفتح صلى الصلوات بوضوء واحد |
سنن الدارمي |
682
| يتوضأ لكل صلاة يوم فتح مكة صلى الصلوات بوضوء واحد مسح على خفيه |
صحيح ابن خزيمة |
13
| يتوضأ لكل صلاة يوم فتح مكة فإنه شغل فجمع بين الظهر والعصر بوضوء واحد |
صحيح ابن خزيمة |
12
| يتوضأ عند كل صلاة لما كان يوم الفتح توضأ مسح على خفيه صلى الصلوات بوضوء واحد |
صحيح ابن خزيمة |
14
| يتوضأ لكل صلاة لما كان يوم فتح مكة صلى الصلوات كلها بوضوء واحد |
سنن ابن ماجه |
510
| يتوضأ لكل صلاة لما كان يوم فتح مكة صلى الصلوات كلها بوضوء واحد |
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي