صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب من ادرك ركعة من الصلاة فقد ادرك تلك الصلاة:
باب: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے وہ نماز پالی۔
ترقیم عبدالباقی: 607 ترقیم شاملہ: -- 1373
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَالأَوْزَاعِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَيُونُسَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ، مَعَ الإِمَامِ، وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ كُلَّهَا.
سفیان بن عیینہ، معمر، اوزاعی، یونس اور عبیداللہ سب نے زہری سے روایت کی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ کی امام مالک سے مذکورہ بالا روایت کی طرح حدیث بیان کی اور ان میں سے کسی کی حدیث میں «مع الإمام» (امام کے ساتھ) کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور عبیداللہ کی حدیث میں ہے: ”تو یقینا اس نے مکمل نماز پالی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1373]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ اور ان میں کسی کی حدیث میں (مَعَ الْاِمَامِ) (امام کے ساتھ) کا لفظ نہیں ہے۔ اور عبیداللہ کی حدیث میں (فَقَدْ اَدْرَكَ الصَّلاَةَ) کے بعد کُلَّھََاَ کا لفظ ہے یعنی (مکمل نماز پا لی)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1373]
ترقیم فوادعبدالباقی: 607
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1373 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1373
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان روایات کا مقصد یہ ہے اگر نو مسلم نے یا بالغ ہونے والے بچے نے یا دیوانگی اور بے ہوشی سے ہوش میں آنے والے نے یا حیض و نفاس سے پاک ہونے والی عورت نے کسی نماز کا آخری وقت پا لیا تو ان سب کو یہ نماز پڑھنی پڑے گی اگر نماز کا وقت صرف ایک رکعت کے بقدر باقی تھا تو تب بھی یہ نماز ان سب پر فرض ہو جائے گی اسی طرح اگر کسی نے امام کے ساتھ ایک رکعت کو پا لیا تو اس کو جماعت کی فضیلت حاصل ہو جائے گی اسی طرح اگر کسی مجبوری یا ضرورت کے سبب ایسے وقت میں نماز شروع کی کہ ایک رکعت پڑھنے کے بعد اس کا وقت نکل گیا تو وہ اس نماز کو مکمل کر لے گا ان احادیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک رکعت پا لینے سے اس نے مکمل نماز پا لی اور اب باقی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی کسی امام کے نزدیک یہ معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔
فوائد ومسائل:
ان روایات کا مقصد یہ ہے اگر نو مسلم نے یا بالغ ہونے والے بچے نے یا دیوانگی اور بے ہوشی سے ہوش میں آنے والے نے یا حیض و نفاس سے پاک ہونے والی عورت نے کسی نماز کا آخری وقت پا لیا تو ان سب کو یہ نماز پڑھنی پڑے گی اگر نماز کا وقت صرف ایک رکعت کے بقدر باقی تھا تو تب بھی یہ نماز ان سب پر فرض ہو جائے گی اسی طرح اگر کسی نے امام کے ساتھ ایک رکعت کو پا لیا تو اس کو جماعت کی فضیلت حاصل ہو جائے گی اسی طرح اگر کسی مجبوری یا ضرورت کے سبب ایسے وقت میں نماز شروع کی کہ ایک رکعت پڑھنے کے بعد اس کا وقت نکل گیا تو وہ اس نماز کو مکمل کر لے گا ان احادیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک رکعت پا لینے سے اس نے مکمل نماز پا لی اور اب باقی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی کسی امام کے نزدیک یہ معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1373]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي