صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب جواز اخذ الاجرة على الرقية بالقرآن والاذكار:
باب: قرآن یا دعا سے منتر کر کے اس پر اجرت لینا درست ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2201 ترقیم شاملہ: -- 5735
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال: نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ لُدِغَ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟، فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا وَسَقَوْنَا لَبَنًا، فَقُلْنَا: أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً؟، فَقَالَ: مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ".
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے خبر دی، انہوں نے اپنے بھائی معبدبن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، روایت کی، کہا: ہم نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا، ایک عورت ہمارے پاس آئی اور کہا: قبیلے کے سردار کو ڈنک لگا ہے، (اسے بچھو نے ڈنک مارا ہے) کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ (جانے کے لیے) کھڑا ہو گیا، اس کے بارے میں ہمارا خیال نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کر سکتا ہے۔ اس نے اس (ڈسے ہوئے) کو فاتحہ سے دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا، تو انہوں نے اسے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا اور ہم سب کو دودھ پلایا۔ ہم نے (اس سے) پوچھا: کیا تم اچھی طرح دم کرنا جانتے تھے؟ اس نے کہا: میں نے اسے صرف فاتحۃ الکتاب سے دم کیا ہے۔ کہا: میں نے (ساتھیوں سے) کہا: ان بکریوں کو کچھ نہ کہو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کس ذریعے سے پتہ چلا کہ یہ (فاتحہ) دم (کا کلمہ بھی) ہے؟ ان (بکریوں) کو بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5735]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو ہمارے پاس ایک عورت آ کر کہنے لگی، قبیلہ کے سردار کو بچھو نے ڈس لیا ہے تو کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ سو اس کے ساتھ ہم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ وہ کوئی دم اچھی طرح کر سکتا ہے، اس نے اسے سورہ فاتحہ سے دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا، انہوں نے ہمیں بکریاں دیں اور دودھ پلایا، ہم نے اس سے پوچھا، کیا تمہیں دم کرنا آتا ہے؟ اس نے کہا، میں نے سورہ فاتحہ ہی سے دم کیا ہے، میں نے کہا، ان بکریوں کو نہ چھیڑو، حتی کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائیں تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اسے کیسے پتہ چلا ہے، یہ سورۃ دم ہے؟ بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5735]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥معبد بن سيرين الأنصاري، أبو يحيى معبد بن سيرين الأنصاري ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← معبد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة متقن | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2276
| انطلق نفر من أصحاب النبي في سفرة سافروها حتى نزلوا على حي من أحياء العرب فاستضافوهم فأبوا أن يضيفوهم فلدغ سيد ذلك الحي فسعوا له بكل شيء لا ينفعه شيء فقال بعضهم لو أتيتم هؤلاء الرهط الذين نزلوا لعله أن يكون عند بعضهم شيء فأتوهم فقالوا يا |
صحيح البخاري |
5007
| ما كان يدريه أنها رقية اقسموا واضربوا لي بسهم |
صحيح مسلم |
5735
| ما كان يدريه أنها رقية اقسموا واضربوا لي بسهم معكم |
صحيح مسلم |
5733
| ما أدراك أنها رقية ثم قال خذوا منهم واضربوا لي بسهم معكم |
جامع الترمذي |
2063
| ما علمت أنها رقية اقبضوا الغنم واضربوا لي معكم بسهم |
جامع الترمذي |
2064
| ما يدريك أنها رقية ولم يذكر نهيا منه وقال كلوا واضربوا لي معكم بسهم |
سنن أبي داود |
3418
| من أين علمتم أنها رقية أحسنتم واضربوا لي معكم بسهم |
سنن أبي داود |
3900
| من أين علمتم أنها رقية أحسنتم اقتسموا واضربوا لي معكم بسهم |
سنن ابن ماجه |
2156
| أو ما علمت أنها رقية اقتسموها واضربوا لي معكم سهما |
بلوغ المرام |
773
| إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله |
معبد بن سيرين الأنصاري ← أبو سعيد الخدري