صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب كان النبي صلى الله عليه وسلم ابيض مليح الوجه:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا، چہرے پر ملاحت تھی۔
ترقیم عبدالباقی: 2340 ترقیم شاملہ: -- 6071
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: " أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ أَبْيَضَ، مَلِيحَ الْوَجْهِ "، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الحْجَّاجِ: مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ، سَنَةَ مِائَةٍ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
خالد بن عبداللہ نے جریری سے، انہوں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے ان (ابوطفیل رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ کا رنگ سفید تھا، چہرے پر ملاحت تھی۔ امام مسلم بن حجاج نے کہا: حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ ایک سو ہجری میں فوت ہوئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے آخری فوت ہوئے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6071]
جریری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،میں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں، آپ کا رنگ سفید تھا، چہرہ ملیح یعنی حسین تھا، امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، حضرت ابوطفیل 100ھ میں فوت ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سب سےآخر میں مرنے والے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6071]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2340
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6071
| أبيض مليح الوجه |
صحيح مسلم |
6072
| أبيض مليحا مقصدا |
سنن أبي داود |
4864
| أبيض مليحا إذا مشى كأنما يهوي في صبوب |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6071 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6071
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سب سے آخر میں مرنے والے صحابی ہیں،
لیکن سن وفات میں اختلاف ہے،
102ھ،
107ھ،
110ھ،
مختلف اقوال ہیں۔
لیکن آپ کا دس ہجری میں فرمانا کہ آج سے سو سال بعد کوئی اس وقت کے موجود لوگوں میں سے زندہ نہیں رہے گا کہ تقاضا کہ آخری قول صحیح ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سب سے آخر میں مرنے والے صحابی ہیں،
لیکن سن وفات میں اختلاف ہے،
102ھ،
107ھ،
110ھ،
مختلف اقوال ہیں۔
لیکن آپ کا دس ہجری میں فرمانا کہ آج سے سو سال بعد کوئی اس وقت کے موجود لوگوں میں سے زندہ نہیں رہے گا کہ تقاضا کہ آخری قول صحیح ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6071]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4864
پیدل چلنے والے کی چال کا بیان۔
سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کو کیسا دیکھا؟ وہ کہا: آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4864]
سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کو کیسا دیکھا؟ وہ کہا: آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4864]
فوائد ومسائل:
طاقت ور صحت مند اور چاق و چوبند آدمیوں کی چال بالعموم ایسے ہی ہوا کرتی ہے۔
تواضع کے نام سے ایسی ڈھیلی ڈھیلی چال چلنا گویا کوئی، مریض جا رہا ہو ممدوح (پسندیدہ) نہیں ہے۔
طاقت ور صحت مند اور چاق و چوبند آدمیوں کی چال بالعموم ایسے ہی ہوا کرتی ہے۔
تواضع کے نام سے ایسی ڈھیلی ڈھیلی چال چلنا گویا کوئی، مریض جا رہا ہو ممدوح (پسندیدہ) نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4864]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6072
حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور اب میرے سوا روئے زمین پر آپ کو دیکھنے والا کوئی شخص نہیں ہے، جریری کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے (کس حالت میں) دیکھا، انہوں نے کہا، آپ سفید رنگ، حسین دومیانہ قد تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6072]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مليح:
حسین،
خوبصورت،
نمکینی رنگ۔
(2)
مُقصد:
معتدل،
نہ دراز اور نہ پستہ،
نہ موٹے اور نہ نحیف و نزار۔
مفردات الحدیث:
(1)
مليح:
حسین،
خوبصورت،
نمکینی رنگ۔
(2)
مُقصد:
معتدل،
نہ دراز اور نہ پستہ،
نہ موٹے اور نہ نحیف و نزار۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6072]
سعيد بن إياس الجريري ← عامر بن واثلة الليثي