پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب من فضائل موسى صلى الله عليه وسلم:
باب: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2373 ترقیم شاملہ: -- 6153
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " اسْتَبَّ رَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَالَمِينَ، وَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، عَلَى الْعَالَمِينَ، قَالَ: فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ، وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي، أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ، فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ؟ ".
یعقوب کے والد ابراہیم (بن سعد) نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: دو آدمیوں کی تکرار ہو گئی، ایک یہودیوں میں سے تھا اور ایک مسلمانوں میں سے۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی! یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی! تو اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور اس کے اپنے اور مسلمان کے درمیان جو کچھ ہوا تھا وہ سب آپ کو بتا دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو (جب) تمام انسان ہوش و حواس سے بے گانہ ہو جائیں گے، سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو موسیٰ علیہ السلام عرش کی ایک جانب (اسے) پکڑے کھڑے ہوں گے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے بے ہوش ہوئے تھے، اس لیے مجھ سے پہلے اٹھائے گئے یا وہ ان میں سے ہیں جنہیں اللہ نے «إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ» ’سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا‘ کے تحت مستثنیٰ کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6153]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی آدمی اور ایک مسلمان آدمی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، تو مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فوقیت بخشی اور سب سے چن لیا، اور یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سب جہانوں سے چن لیا، اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرے پر تھپڑ رسید کر دیا، تو یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور مسلمان کے معاملے کی خبر دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو، کیونکہ تمام لوگ بے ہوش ہوں گے تو میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا اور اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کے ایک کنارے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، مجھے معلوم نہیں، کیا وہ بھی بے ہوش ہونے والوں میں داخل تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا ان میں سے ہیں، جن کو اللہ نے صعقہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2373
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7427
| الناس يصعقون يوم القيامة إذا أنا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش |
صحيح مسلم |
6153
| لا تخيروني على موسى فإن الناس يصعقون فأكون أول من يفيق فإذا موسى باطش بجانب العرش فلا أدري أكان فيمن صعق فأفاق قبلي أم كان ممن استثنى الله |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6153 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6153
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ نے قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ ﴿٦٨﴾ (سورة الزمر: 68)
"اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں،
بے ہوش ہو جائیں گے،
مگر جن کو اللہ بچانا چاہے گا،
پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو فورا اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔
"
فوائد ومسائل:
آپ نے قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ ﴿٦٨﴾ (سورة الزمر: 68)
"اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں،
بے ہوش ہو جائیں گے،
مگر جن کو اللہ بچانا چاہے گا،
پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو فورا اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔
"
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6153]
Sahih Muslim Hadith 6153 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي