صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب كيفية الخلق الآدمي في بطن امه وكتابة رزقه واجله وعمله وشقاوته وسعادته:
باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2650 ترقیم شاملہ: -- 6739
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ : " أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ، وَمَضَى عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ؟ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَقَالَ: أَفَلَا يَكُونُ ظُلْمًا؟ قَالَ: فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا، وَقُلْتُ: كُلُّ شَيْءٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ فَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَقَالَ لِي: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُكَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَكَ، إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ؟ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: لَا، بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا {7} فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا {8} سورة الشمس آية 7-8 ".
یحییٰ بن یعمر نے ابواسود دیلی سے روایت کی، کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ جو عمل لوگ آج کر رہے ہیں اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے ہی سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکا ہے یا وہ نئے سرے سے ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، جس طرح اسے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت قائم ہوئی ہے؟ میں نے جواب دیا: بلکہ جس طرح ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کا سلسلہ ان میں جاری ہے۔ (دیلی نے) کہا: تو (عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو کیا یہ ظلم نہیں؟ (دیلی نے) کہا: تو اس بات پر میں سخت خوفزدہ اور پریشان ہو گیا اور میں نے کہا: ہر چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے اور اس کی ملکیت ہے۔ جو بھی وہ کرے اس سے پوچھا نہیں جا سکتا اور وہ (اس کے مملوک بندے) جو کریں ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے! میں نے جو تم سے پوچھا صرف اسی لیے پوچھا تھا تاکہ تمہاری عقل کا امتحان لوں۔ مزینہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کس طرح دیکھتے ہیں، لوگ جو عمل آج کر رہے اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں کوئی ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکی ہے یا وہ اب ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، جس طرح اسے ان کے رسول ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت تمام ہوئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں طے ہو گئی ہے اور ان میں جاری ہو چکی، اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے: ”اور نفس انسانی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کو ٹھیک بنایا! پھر اس کو اس کی بدی بھی الہام کر دی اور نیکی بھی۔““ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6739]
ابو الاسود دیلی کہتے ہیں، مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا جانتے ہو؟ آج لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے جو مشقت برداشت کر رہے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا گیا ہے اور وہ سابقہ تقدیر سے طے ہو چکے ہیں؟ یا ان کا نبی جو شریعت لایا اور ان پر حجت قائم ہو گئی ہے، اس کی روشنی میں نئے سرے سے ہو رہے ہیں؟ تو میں نے کہا: بلکہ یہ ایسی چیز ہے، جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور ان کے لیے طے ہو چکی ہے (جو انہوں نے بھگتنی ہے)۔ چنانچہ میں اس سے بہت زیادہ گھبرا گیا اور میں نے کہا: ہر چیز اللہ کی پیدا کردہ ہے اور اس کی مملوک ہے، اس لیے ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 23] ”اس سے اس کے فعل کے بارے میں پوچھا نہیں جا سکتا اور مخلوق سے پوچھا جائے گا“ تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، میں نے تجھ سے سوال محض تیرے عقل و شعور کا اندازہ لگانے کے لیے کیا۔ مزینہ قبیلہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بتائیے لوگ آج جو عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے جو محنت و مشقت کر رہے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے، جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور سابقہ تقدیر سے ان کے بارے میں طے ہو چکا ہے یا نئے سرے سے کر رہے ہیں، اس شریعت کی روشنی میں جو ان کا نبی ان کے پاس لایا ہے اور ان پر حجت قائم ہو چکی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور ان کے بارے میں طے ہو چکی ہے اور اس کی تصدیق اللہ برتر اور بزرگ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا * فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ [سورة الشمس: 7-8] اور شاہد ہے نفس اور اس کا نوک پلک سنوارنا کہ اس کا اسے اس کی بدی اور تقویٰ کا الہام فرمانا۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6739]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2650
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7551
| كل ميسر لما خلق له |
صحيح البخاري |
6596
| كل يعمل لما خلق له أو لما يسر له |
صحيح مسلم |
6739
| أرأيت ما يعمل الناس اليوم ويكدحون فيه أشيء قضي عليهم ومضى عليهم من قدر ما سبق فيما يستقبلون به مما أتاهم به نبيهم وثبتت الحجة عليهم فقلت بل شيء قضي عليهم ومضى عليهم قال أفلا يكون ظلما ففزعت من ذلك فزعا شديدا وقلت كل شيء خلق الله ومل |
صحيح مسلم |
6737
| كل ميسر لما خلق له |
سنن أبي داود |
4709
| كل ميسر لما خلق له |
مشكوة المصابيح |
87
| لا بل شيء قضي عليهم ومضى فيهم وتصديق ذلك في كتاب الله عز وجل ونفس وما سواها فالهمها فجورها وتقواها |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6739 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6739
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا،
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بدی اور تقویٰ کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت اور شعور بخشا ہے اور اس سے کام لے کر،
وہ نیکی یا بدی کر رہا ہے،
لیکن اللہ کو پہلے سے پتہ ہے،
اس نے نیکی کرنی ہے یا بدی،
اس لیے اپنے علم کے مطابق اس نے لکھ دیا ہے کہ اس نے کون سے عمل کرنے ہیں اور اس کے مطابق وہ عمل کر رہا ہے،
اس لیے یہ جبر نہیں ہے کہ اس کو ظلم قرار دیا جائے،
بالفرض وہ اگر جبر بھی کرتا تو یہ ظلم نہ ہوتا،
کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے،
اس لیے وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہے،
انسان مخلوق ہونے کی بنا پر اپنے اعمال کا جوابدہ ہے،
اس سے سوال ہو گا تو نے یہ عمل کیوں کیا،
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ﴿٢٣﴾ (سورۃ الانبیاء)
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا،
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بدی اور تقویٰ کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت اور شعور بخشا ہے اور اس سے کام لے کر،
وہ نیکی یا بدی کر رہا ہے،
لیکن اللہ کو پہلے سے پتہ ہے،
اس نے نیکی کرنی ہے یا بدی،
اس لیے اپنے علم کے مطابق اس نے لکھ دیا ہے کہ اس نے کون سے عمل کرنے ہیں اور اس کے مطابق وہ عمل کر رہا ہے،
اس لیے یہ جبر نہیں ہے کہ اس کو ظلم قرار دیا جائے،
بالفرض وہ اگر جبر بھی کرتا تو یہ ظلم نہ ہوتا،
کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے،
اس لیے وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہے،
انسان مخلوق ہونے کی بنا پر اپنے اعمال کا جوابدہ ہے،
اس سے سوال ہو گا تو نے یہ عمل کیوں کیا،
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ﴿٢٣﴾ (سورۃ الانبیاء)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6739]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 87
قسمت میں لکھا پورا ہو کر رہتا ہے
«. . . وَعَن عمرَان بن حضين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ یہ فرمائیے جو کچھ آج کل لوگ کام کرتے ہیں اور اس کے حاصل کرنے میں محنت و مشقت کرتے ہیں، کیا وہ ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے اور ان کی تقدیر میں گزر چکی ہے یعنی جو کچھ لوگ کرتے ہیں یہ سب پہلے تقدیر میں لکھا جا چکا ہے یا آئندہ وہ چیز ہونے والی ہے جن کو ان کا نبی لایا ہے اور ان پر حجت و دلیل ثابت ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اس کا فیصلہ ہو چکا اور یہ چیز ان پر گزر چکی ہے اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے «ونفس وما سواها ٭فألهمها فجورها وتقواها» الایۃ یعنی قسم ہے جان کی اور اس کے بنانے والے کی، پھر اس کے دل میں بھلائی و برائی ڈال دی ہے۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 87]
«. . . وَعَن عمرَان بن حضين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ یہ فرمائیے جو کچھ آج کل لوگ کام کرتے ہیں اور اس کے حاصل کرنے میں محنت و مشقت کرتے ہیں، کیا وہ ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے اور ان کی تقدیر میں گزر چکی ہے یعنی جو کچھ لوگ کرتے ہیں یہ سب پہلے تقدیر میں لکھا جا چکا ہے یا آئندہ وہ چیز ہونے والی ہے جن کو ان کا نبی لایا ہے اور ان پر حجت و دلیل ثابت ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اس کا فیصلہ ہو چکا اور یہ چیز ان پر گزر چکی ہے اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے «ونفس وما سواها ٭فألهمها فجورها وتقواها» الایۃ یعنی قسم ہے جان کی اور اس کے بنانے والے کی، پھر اس کے دل میں بھلائی و برائی ڈال دی ہے۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 87]
تخریج:
[صحيح مسلم 6739]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ تقدیر پہلے سے مقرر شدہ ہے اور انسان مجبور محض نہیں، بلکہ اپنے اعمال میں خود مختار ہے۔
➋ حدیث اور قرآن ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
[صحيح مسلم 6739]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ تقدیر پہلے سے مقرر شدہ ہے اور انسان مجبور محض نہیں، بلکہ اپنے اعمال میں خود مختار ہے۔
➋ حدیث اور قرآن ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 87]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4709
تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4709]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4709]
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں تقدیرکو صراحتًا (اللہ کا) علم قراردیا گیا ہے، اس معنی کی احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لئے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
اس حدیث میں تقدیرکو صراحتًا (اللہ کا) علم قراردیا گیا ہے، اس معنی کی احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لئے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4709]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6596
6596. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنتی لوگ اہل جہنم سے پہچانے جا چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے عرض کی: پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جواس کے لیے آسان کیا گیا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6596]
حدیث حاشیہ:
رشك بکسر یزید کا لقب ہے، ان کی ڈاڑھی بہت ہی لمبی تھی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو لازم ہے کہ نیک کاموں کی کوشش کرے اور اللہ سے جنتی ہونے کی دعا بھی کرے کیونکہ دعا سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور دعا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔
رشك بکسر یزید کا لقب ہے، ان کی ڈاڑھی بہت ہی لمبی تھی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو لازم ہے کہ نیک کاموں کی کوشش کرے اور اللہ سے جنتی ہونے کی دعا بھی کرے کیونکہ دعا سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور دعا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6596]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7551
7551. حضرت عمرانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر لوگ عمل کس لیے کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:”ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7551]
حدیث حاشیہ:
یعنی جس کی قسمت میں جنت ہے اس کو خود بخوداعمال خیر کو توفیق ہوگی وہ نیک کاموں میں راغب ہوگا اورجس کی تقدیر میں دوزخ ہے اس کو نیک کاموں سےنفرت اور برے کاموں کی رغبت ہوگی۔
یہ دونوں احادیث اوبرگزرچکی ہیں۔
یہاں لفظ تیسیر کی مناسبت سے ان کو لائے۔
یعنی جس کی قسمت میں جنت ہے اس کو خود بخوداعمال خیر کو توفیق ہوگی وہ نیک کاموں میں راغب ہوگا اورجس کی تقدیر میں دوزخ ہے اس کو نیک کاموں سےنفرت اور برے کاموں کی رغبت ہوگی۔
یہ دونوں احادیث اوبرگزرچکی ہیں۔
یہاں لفظ تیسیر کی مناسبت سے ان کو لائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7551]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6596
6596. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنتی لوگ اہل جہنم سے پہچانے جا چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے عرض کی: پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جواس کے لیے آسان کیا گیا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6596]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصل فیصلہ وہی ہوتا ہے جو قضا و قدر انسان کے متعلق کر چکی ہے، باقی رہے ہمارے ظاہری اعمال تو وہ انسان کے اچھے اور برے ہونے کی صرف ظاہری نشانیاں ہیں۔
اچھے اعمال سے حسن خاتمہ کی امید اور برے اعمال سے برے خاتمے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے۔
(2)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلۂ مزینہ کے دو آدمیوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول! لوگ جو آج عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے محنت و کوشش کر رہے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور پہلے سے جو تقدیر ہے وہ نافذ ہو چکی ہے یا وہ اس چیز کی طرف جا رہے ہیں جو ان کے نبی ان کے پاس لے کر آئے اور ان کے خلاف حجت قائم کی؟ آپ نے فرمایا:
”نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ان کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر ان کے متعلق نافذ ہو چکی ہے اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے:
”اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے درست کیا! پھر بدکاری اور پرہیزگاری (دونوں)
کی اسے سمجھ عطا کی۔
“ (الشمس 7/91، 8، و صحیح مسلم، القدر، حدیث: 6739 (2650) (3)
واضح رہے کہ اس معنی کی دیگر احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لیے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
بہرحال ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک اعمال کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے جنتی ہونے کی دعا کرتا رہے۔
واللہ المستعان
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصل فیصلہ وہی ہوتا ہے جو قضا و قدر انسان کے متعلق کر چکی ہے، باقی رہے ہمارے ظاہری اعمال تو وہ انسان کے اچھے اور برے ہونے کی صرف ظاہری نشانیاں ہیں۔
اچھے اعمال سے حسن خاتمہ کی امید اور برے اعمال سے برے خاتمے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے۔
(2)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلۂ مزینہ کے دو آدمیوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول! لوگ جو آج عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے محنت و کوشش کر رہے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور پہلے سے جو تقدیر ہے وہ نافذ ہو چکی ہے یا وہ اس چیز کی طرف جا رہے ہیں جو ان کے نبی ان کے پاس لے کر آئے اور ان کے خلاف حجت قائم کی؟ آپ نے فرمایا:
”نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ان کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر ان کے متعلق نافذ ہو چکی ہے اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے:
”اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے درست کیا! پھر بدکاری اور پرہیزگاری (دونوں)
کی اسے سمجھ عطا کی۔
“ (الشمس 7/91، 8، و صحیح مسلم، القدر، حدیث: 6739 (2650) (3)
واضح رہے کہ اس معنی کی دیگر احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لیے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
بہرحال ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک اعمال کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے جنتی ہونے کی دعا کرتا رہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6596]
Sahih Muslim Hadith 6739 in Urdu
أبو الأسود الدؤلي ← عمران بن حصين الأزدي